آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 75
انحضرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 70 باب اول اس جگہ یہ نکتہ یا درکھنا چاہئے کہ خدا تعالیٰ جن کو انسانوں کی ہدایت کے لئے بھیجتا ہے وہ اس کے رسول کہلاتے ہیں اور رسول دنیا میں دو قسم کے ہوتے ہیں۔ایک وہ جن کا کام صرف خط دے دینا ہوتا ہے اس سے زیادہ ان کا کام کچھ نہیں ہوتا۔اور ایک وہ جن کا کام ان احکام کو نافذ کرنا بھی ہوتا ہے۔حضرت مسیح علیہ السلام پر تجلی الہی کا کبوتر کی صورت میں نازل ہونا بتا تا ہے کہ میچ کی حیثیت صرف اس پیغامبر کی تھی جو پیغام سنا دیتا ہے اور اس کا کام ختم ہو جاتا ہے۔لیکن رسول کریم ے پر جلی الہی کا نزول ایک مرد کامل کی شکل میں ظاہر ہوا جس سے اس طرف اشارہ تھا کہ آپ صرف پیغامبر نہ ہوں گے بلکہ ایک کامل نمونہ بھی اپنے مخاطبین کے لئے ہوں گے۔انجیل میں یہ بھی بتایا گیا ہے: تب یسوع روح کے وسیلے بیابان میں لایا گیا تا کہ شیطان اسے آزمائے اور جب چالیس دن اور چالیس رات روزہ رکھ چکا ، آخر کو بھوکا ہوا تب آزمائش کرنے والے نے اس پاس آ کے کہا۔اگر تو خدا کا بیٹا ہے تو کہہ یہ پتھر روٹی بن جائیں۔اس نے جواب میں کہا لکھا ہے کہ انسان صرف روٹی کہ سے نہیں بلکہ ہر اک بات سے جو خدا کے منہ سے نکلتی ہے جیتا ہے۔تب شیطان اسے مقدس شہر میں اپنے ساتھ لے گیا اور بیکل کے کنگورے پر کھڑا کر کے اس سے کہا کہ اگر تو خدا کا بیٹا ہے تو اپنے تئیں نیچے گرا دے کیونکہ لکھا ہے کہ وہ تیرے لئے اپنے فرشتوں کو فرمائے گا اور وہ تجھے ہاتھوں پر اٹھا لیں گے۔ایسا نہ ہو کہ تیرے پاؤں کو پھر سے ٹھیس لگے۔یسوع نے اس سے کہا یہ بھی لکھا ہے کہ تو خداوند اپنے خدا کو مت آزما۔پھر شیطان اسے ایک بڑے اونچے پہاڑ پر لے گیا اور دنیا کی ساری بادشاہتیں اور ان کی شان و شوکت اسے دکھائیں اور اس سے کہا اگر تو گھر کے مجھے سجدہ کرے تو یہ سب کچھ تجھے دوں گا۔تب یسوع نے اسے کہا اے شیطان دور