آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات

Page 74 of 520

آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 74

انحضرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 74 باب اول کچھ ہوا اس کے متعلق انجیل کہتی ہے: اور یسوع پتسمہ یا کے وہیں پانی سے نکل کے اوپر آیا اور دیکھو کہ اس کے لئے آسمان کھل گیا اور اس نے خدا کی روح کو کبوتر کی مانند اتر تے دیکھا۔اور دیکھو کہ آسمان سے ایک آواز یہ کہتی آئی کہ یہ میرا پیارا بیٹا ہے جس سے الله میں خوش ہوں"۔(متی باب ۳ آیت ۱۶ و ۱۷) اس نظارہ کو رسول کریم ﷺ کی بد روحی کے مقابلہ میں رکھو اور پھر سوچو کہ کیا ان دونوں واقعات میں کوئی بھی نسبت ہے۔محمد رسول اللہ ﷺ کی طرف اللہ تعالیٰ نے اپنا پیغام فرشتہ کے ذریعہ بھیجا اور مریخ پر ایک کبوتر کی شکل میں روح القدس نازل ہوا۔کبوتر سے انہوں نے کیا ڈرنا تھا۔کبوتر تو وہ جانور ہے جس کی ہڈیاں بھی انسان چبا جاتا ہے۔یہی عیسوی اور محمدی تجلی کا فرق ہے جس کی بناء پر اللہ تعالیٰ نے قرآنی تعلیم کو شرک سے محفوظ رکھا لیکن عیسائیت پر شیطان غالب آگیا کیونکہ عیسائی مذہب کے پیشوا پر روح القدس ایک نہایت ہی کمزور شکل میں نازل ہوا تھا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اسی حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ہمارے نبی ﷺ پر جو روح القدس کی تجلی ہوئی تھی وہ ہر ایک تجلی سے بڑھ کر ہے۔روح القدس کبھی کسی نبی پر کبوتر کی شکل پر ظاہر ہوا اور کبھی کسی نبی یا اوتار پر گائے کی شکل پر ظاہر ہوا اور کسی پر کچھ یا مچھ کی شکل پر ظاہر ہوا اور انسان کی شکل کا وقت نہ آیا جب تک انسان کامل یعنی ہما را نبی میے مبعوث نہ ہوا۔جب آنحضرت ﷺ مبعوث ہو گئے تو روح القدس بھی آپ پر بوجہ آپ کے کامل انسان ہونے کے انسان کی شکل پر ہی ظاہر ہوا اور چونکہ روح القدس کی قومی تجلی تھی جس نے زمین سے لے کر آسمان کا افق بھر دیا تھا اس لئے قرآنی تعلیم شرک سے محفوظ رہی لیکن چونکہ عیسائی مذہب کے پیشوا پر روح القدس نہایت کمزور شکل میں ظاہر ہوا تھا یعنی کبوتر کی شکل پر اس لئے نا پاک روح یعنی شیطان اس مذہب پر فتحیاب ہو گیا۔" کشتی نوح روحانی خزائن جلد ۱۹ صفحه ۸۳-۸۴)