آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات

Page 73 of 520

آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 73

آنحضرت پیر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 78 باب اول یعنی میں جانے کے لئے تیار نہیں۔میری جگہ کسی اور کو بھیج دیجئے۔حضرت موسیٰ علیہ السلام الله نے خدا تعالیٰ کے حکم کا باربارا نکار کیا پھر بھی مسیحی علماء کے نزدیک ان کے عظیم الشان نبی ہونے میں کوئی شک پیدا نہیں ہوا۔مگر رسول کریم ﷺ کے صرف اتنا کہنے پر کہ نہ معلوم میں اس ذمہ واری کو ادا کر سکوں گا یا نہیں، انہیں رسول کریم ﷺ کے ایمان میں یا عقل میں شبہ نظر آنے لگا۔حالانکہ موسٹی کا واقعہ ان کی الہامی کتاب میں مذکور ہے اور رسول کریم ﷺ کا فقرہ قرآن کریم میں نہیں بلکہ صرف حدیث میں بیان ہے جو کلام اللہ کے برابر شہادت نہیں ہوسکتا۔تو رات میں آگے چل کر لکھا ہے کہ جب حضرت موسیٰ علیہ السلام نے بار بار خدا تعالیٰ کا حکم ماننے سے انکار کیا۔تب خداوند کا غصہ موسیٰ پر بھڑ کا"۔(خروج باب ۴ آیت (۱۴) یعنی اللہ تعالیٰ نے یہ دیکھ کر کہ وہ انکار پر اصرار ہی کئے جاتے ہیں انہیں ڈانٹا۔پھر لکھا ہے: ” کیا نہیں ہے لادیوں میں سے ہارون تیرا بھائی ؟ میں جانتا ہوں کہ وہ فصیح ہے اور دیکھ کہ وہ بھی تیری ملاقات کو آتا ہے اور تجھے دیکھ کے دل میں خوش ہوگا اور تو اسے باتیں بتائے گا اور میں تیری اور اس کی بات کے ساتھ ہوں گا اور تم جو کچھ کرو گے تم کو بتاؤں گا (خروج باب ۴ آیت ۱۵۹۱۴) غرض رسول کریم ﷺ کی بد روحی پر عیسائیوں کی طرف سے جو اعتراضات کئے جاتے ہیں وہ تمام کے تمام اعتراضات اس وحی پر بھی واقعہ ہوتے ہیں جو حضرت موسیٰ علیہ السلام پر نازل ہوئی۔ہم تو عیسائیوں کے اعتراضات کو درست تسلیم نہیں کرتے اور ان کے جوابات بھی اوپر درج کئے جاچکے ہیں لیکن پھر بھی الزامی رنگ میں ہم عیسائیوں سے کہتے ہیں اگر تمہیں رسول کریم کے متعلق یہ اعتراض ہے کہ وحی کے متعلق آپ نے تردد کا اظہار فرمایا تو یہ اعتراض بدرجہ اتم حضرت موسیٰ علیہ السلام پر وارد ہوتا ہے اور وارد بھی ایسی صورت میں ہوتا ہے کہ اس کی کوئی تاویل نہیں کی جاسکتی۔اس کے بعد ہم حضرت مسیح علیہ السلام کی بدروحی کے واقعات کو دیکھتے ہیں میتی باب میں لکھا ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام یوحنا کے پاس گئے اور ان سے کہا کہ مجھے بپتسمہ دو۔پہلے تو انہوں نے انکار کیا مگر آخر مان لیا اور حضرت مسیح نے یوحنا سے بپتسمہ پایا۔اس کے بعد جو