آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات

Page 72 of 520

آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 72

انحضرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 72 باب اول علیہ السلام نے سانپ دیکھا تو ڈر کر بھاگنا شروع کر دیا۔عیسائی اس واقعہ کو پڑھتے ہیں مگر اس کے باوجودان کے نزدیک حضرت موسیٰ علیہ السلام کی نبوت میں کوئی نقص واقعہ نہیں ہوتا لیکن محمد رسول اللہ مال بھاگتے نہیں۔وحی کے نازل ہونے پر صرف اتنا فرماتے ہیں کہ نہ معلوم میں اس اہم ذمہ واری کو ادا کر سکوں گا یا نہیں۔تو عیسائی کہتے ہیں آپ نے وحی الہی کے متعلق شک اور تر و دکا اظہار کر دیا۔پھر لکھا ہے: " تب موسیٰ نے خداوند سے کہا کہ اے میرے خداوند میں فصاحت نہیں رکھتا۔نہ تو آگے سے اور نہ جب سے کہ تو نے اپنے بندے سے کلام کیا اور میری زبان اور باتوں میں لگوت ہے" (خروج باب ۴ آیت ۱۰) دیکھو کتنا بڑ انسان تھا جو حضرت موسیٰ علیہ السلام نے دیکھا کہ ان کا عصا سانپ بن گیا اور جب انہوں نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے سانپ کو پکڑا تو وہ پھر عصا بن گیا۔اتنا بڑا معجزہ دیکھنے کے بعد بھی حضرت موسیٰ علیہ السلام ابھی اڑے ہوئے ہیں اور کہتے ہیں میری زبان میں فصاحت نہیں۔نہ پہلے فصاحت تھی اور نہ اب تجھے دیکھنے کے بعد میری زبان میں کوئی فرق پیدا ہوا ہے۔یعنی پہلے تو میں بے شک ایک معمولی آدمی تھا مگر میں دیکھتا ہوں کہ تیرے جلال کو دیکھنے کے بعد بھی میری زبان ویسی کی ویسی ہے جس طرح پہلے میری زبان میں لکنت تھی اسی طرح اب ہے۔جس طرح پہلے غیر فصیح تھا اسی طرح اب غیر فصیح ہوں۔تب خدا نے اسے کہا کہ آدمی کو زبان کس نے دی اور کون گونگا یا بہرایا بینا یا اندھا کرتا ہے۔کیا میں نہیں کرتا جو خداوند ہوں۔پس اب تو جا اور میں تیری بات کے ساتھ ہوں اور تجھ کو سکھاؤں گا جو کچھ تو کہے گا“ (خروج باب ۴ آیت ۱۲۹۱۱) اس حکم اور نصیحت کو سن کر بھی موسیٰ علیہ السلام کے طریق میں کوئی تبدیلی پیدا نہ ہوئی۔چنانچہ آگے لکھا ہے : ” تب اس نے کہا کہ اے میرے خداوند ! میں تیری منت کرتا ہوں جس کو چاہے تو اس وسیلہ سے بھیج (خروج باب ۴ آیت ۱۳)