آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات

Page 71 of 520

آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 71

انحضرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 71 باب اول کے پاس جاؤں۔میں ایک غریب آدمی ہوں اور فرعون بڑا بادشاہ ہے۔میں تو اس کے پاس نہیں جا سکتا۔حضرت موسیٰ علیہ السلام خدا تعالیٰ کے حکم کا اس قد را نکار کرنے کے باوجود مسیحی یا در یوں کے نزدیک اللہ تعالیٰ کے مقرب ہی رہتے ہیں۔لیکن محمد رسول اللہ ملے اگر صرف اتنا فرماتے ہیں کہ قَدْ خَشِيتُ على نفسی مجھے تو اپنے نفس کے متعلق ڈر پیدا ہو گیا ہے تو عیسائی۔یہ کہنا شروع کر دیتے ہیں کہ ان الفاظ سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کو وحی الہی پر یقین نہیں تھا۔پھر لکھا ہے اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے کہا کہ جا اور اپنی قوم کو مصر سے نکال کر اس پہاڑ پر عبادت کرنے کے لئے لانگر موسٹی نے اس کا بھی انکار کیا۔چنانچہ لکھا ہے: تب موسیٰ نے جواب دیا اور کہا کہ دیکھ دے مجھ پر ایمان نہ لائیں گے، نہ میری بات سنیں گے۔وہ کہیں گے کہ خداوند تجھے دکھائی نہیں دیا (خروج باب ۴ آیت ۱ ) محمد رسول اللہ ﷺ کا واقعہ جو بالکل عقل کے مطابق ہے اس کے متعلق تو عیسائی اعتراض کرتے ہیں کہ آپ نے وحی الہی کے متعلق شک کا اظہار کیا۔مگر موسیٰ علیہ السلام کے متعلق نہیں دیکھتے کہ انہوں نے کس طرح اللہ تعالیٰ کے واضح احکام کا انکار کیا۔اللہ تعالی نے انہیں کہا کہ اپنی قوم کو یہاں عبادت کرنے کے لئے لا۔اب بجائے اس کے کہ وہ اس حکم کی فوری طور پر تعمیل کرتے اللہ تعالیٰ سے یہ کہنے لگ گئے کہ وہ مجھ پر ایمان نہیں لائیں گے، نہ میری بات سنیں گے، وہ کہیں گے کہ خداوند تجھے دکھائی نہیں دیا۔اس لئے میں ان کے پاس کس طرح جا سکتا ہوں؟ " تب خدا نے موسیٰ سے کہا کہ یہ تیرے ہاتھ میں کیا ہے وہ بولا عصا۔پھر اس نے کہا اسے زمین پر پھینک دے۔اس نے زمین پر پھینک دیا اور وہ سانپ بن گیا اور موسیٰ اس کے آگے سے بھاگا (خروج باب ۴ آیت ۲و۳ ) کیسی عجیب بات ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے سانپ کو دیکھا تو ڈر کر بھاگنے لگ گئے۔حالانکہ سانپ کو ہر شخص مار سکتا ہے یہ نہیں ہوتا کہ کوئی سمجھدار طاقتور انسان سانپ دیکھے تو ڈر کر بھاگنا شروع کر دے۔وہ فورا لاٹھی اٹھا نا اور اسے مار ڈالتا ہے۔مگر حضرت موسیٰ