آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 70
آنحضرت پیر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 70 باب اول پھر وہیری اور اس کے ساتھی یہ تو اعتراض کرتے ہیں کہ محمد رسول اللہ ﷺ پر وحی نازل ہوئی تو وہ ڈر گئے اور ان کے کندھے کا پنپنے لگ گئے مگر وہ یہ نہیں دیکھتے کہ یہاں صاف لکھا ہے کہ: موسیٰ نے اپنا منہ چھپایا کیونکہ وہ خدا پر نظر ڈالنے سے ڈرتا تھا۔اگر رسول کریم ﷺ پر آپ کے ڈرنے کی وجہ سے اعتراض کیا جا سکتا ہے تو موسیٰ علیہ السلام پر بھی یہ اعتراض وارد ہوتا ہے۔بلکہ موسیٰ علیہ السلام پر جو اعتراض وارد ہوتا ہے وہ زیادہ سخت ہے کیونکہ ان کے متعلق لکھا ہے کہ انہوں نے ڈر کر اپنا منہ چھپالیا لیکن رسول کریم کے متعلق صرف اتنا لکھا ہے کہ آپ کے کندھے کا پنپنے لگ گئے اور یہ امر ظاہر ہے کہ بڑا آدمی اگر کسی بات سے گھبراتا ہے تو اس کے کندھے کا پینے لگ جاتے ہیں۔لیکن بچے جب کسی بات سے ڈرتے ہیں تو اپنا منہ چھپا لیتے ہیں۔یہ بھی نہیں ہوتا کہ کوئی بڑا آدمی ڈرے تو وہ اپنی آنکھوں پر ہاتھ رکھ لے۔لیکن بچوں کو تم روزانہ دیکھو گے کہ جب وہ ڈرتے ہیں فوراً اپنا منہ چھپا لیتے ہیں۔یہی بچوں والی حرکت حضرت موسیٰ علیہ السلام نے کی کہ خدا تعالیٰ کو دیکھا تو ڈر کر اپنا منہ چھپالیا۔یا کبوتر والی حرکت کی جو بلی سے ڈر کر اپنی آنکھیں بند کر لیتا ہے۔لیکن محمد رسول اللہ ہے چونکہ روحانی لحاظ سے ایک جوان اور مضبوط آدمی کی حیثیت رکھتے تھے اس لئے آپ نے اپنی آنکھیں کھلی رکھیں۔صرف گھبراہٹ سے آپ کے کندھے ملنے شروع ہو گئے۔پس جو اعتراض مستشرقین یورپ کی طرف سے رسول کریم ﷺ پر کیا جاتا ہے وہی حضرت موسیٰ علیہ السلام پر وارد ہوتا ہے اور وار د بھی زیادہ بھیا تک اور خطر ناک شکل میں ہوتا ہے۔پھر لکھا ہے : ” موسیٰ نے خدا کو کہا میں کون ہوں جو فرعون کے پاس جاؤں اور بنی اسرائیل کو مصر سے نکالوں؟ (خروج باب ۳ آیت ۱۱) عیسائی اعتراض کرتے ہیں کہ محمد رسول اللہ ﷺ نے اپنی وحی پر شک کیا اور وہ یہ نہیں دیکھتے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کا کیا حال تھا۔اللہ تعالیٰ ان کو فرعون کی طرف جانے کا حکم دیتا ہے مگر یہجائے اس کے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل کریں اس کی نصرت اور تائید پر بھروسہ رکھیں اور سمجھیں کہ جب اللہ تعالیٰ مجھے اس کام کے لئے بھیج رہا ہے تو وہ مجھے اکیلا نہیں چھوڑے گا۔اس قدر شک کا اظہار کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ سے کہتے ہیں کہ میری حیثیت ہی کیا ہے کہ میں فرعون