آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات

Page 69 of 520

آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 69

انحضرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 69 باب اول رسول اللہ ﷺ کی طرف دوڑا اور یہی عشق کامل کی علامت ہوتی ہے۔ایک شاعر کہتا ہے۔بعد مدت کے گلے ملتے ہوئے آتی ہے شرم صلى الله اب مناسب ہے یہی کچھ میں بڑھوں کچھ تو بڑھے محبت صادق میں یہی ہوتا ہے کہ کچھ وہ بڑھتا ہے اور کچھ یہ بڑھتا ہے۔اسی طرح محمد رسول اللہ کے متعلق فرماتا ہے کہ جب انہیں اللہ تعالی کی رویت ہوئی تو آپ اللہ تعالیٰ کی طرف دوڑے اور اللہ تعالی آپ کی طرف دوڑا۔مگر موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ کیا واقعہ ہوا جب انہوں نے اللہ تعالیٰ کو دیکھا تو خدا تعالیٰ نے ان سے کہا: ” یہاں نزدیک مت آ یہ الفاظ بتا رہے ہیں صلى الله کہ موسیٰ کی تجلی اور محمد رسول اللہ ملنے کی تجلی میں کتابیہ افرق تھا۔محمد رسول اللہ میلے کے متعلق تو اللہ تعالیٰ نے یہ بتایا ہے کہ وہ میری طرف بڑھے اور میں ان کی طرف بڑھاتا کہ ہم دونوں آپس میں جلدی مل جائیں۔مگر موسیٰ علیہ السلام کو کہا گیا: ” یہاں نزدیک مت آ ا ور پھر ساتھ ہی یہ حکم دیا گیا کہ اپنے پاؤں سے جوتا اتار کیونکہ یہ جگہ جہاں تو کھڑا ہے مقدس زمین ہے مگر محمد رسول اللہ مے کو جوتا اتارنے کا حکم نہیں دیا گیا۔اس کی ایسی ہی مثال ہے جیسے راجاؤں سے کوئی بڑا آدمی ملنے کے لئے جاتا ہے تو وہ جوتا پہنے رہتا ہے۔لیکن اگر کوئی زمینداران سے ملنے کے لئے جائے تو اسے دروازہ میں ہی جوتا اتارنے کا حکم دیا جاتا ہے۔چونکہ موسیٰ کا مقام وہ نہیں تھا جو محمد رسول اللہ ﷺ کا تھا اس لئے محمد رسول اللہ ﷺ سے یہ نہیں کہا گیا کہ تو اپنا جوتا اتار مگر موسیٰ علیہ السلام کو جیسے معمولی زمینداروں کو ڈانٹ کر جوتا اتارنے کا حکم دیا جاتا ہے اللہ تعالیٰ کی طرف سے حکم دیا گیا کہ: ”اپنے پاؤں سے جوتا اتار کیونکہ یہ جگہ جہاں تو کھڑا ہے مقدس زمین ہے۔پھر حضرت موسیٰ علیہ السلام سے اس وقت جو کچھ کہا گیا وہ یہ ہے کہ : ” میں تیرے باپ کا خدا اور ابراہام کا خدا اور اسحاق کا خدا اور یعقوب کا خدا ہوں“ صلى الله اس میں کون سا معرفت کا نکتہ بیان ہے؟ یا کون سا کمال ہے جو اس کلام میں پایا جاتا ہے؟ ایک موٹی بات ہے جو ہر شخص جانتا ہے مگر محمد رسول اللہ ﷺ کو جو کچھ کہا گیا اس کے متعلق آگے چل کر بتایا جائے گا کہ وہ کلام اپنے اندر کس قدر خوبیاں رکھتا تھا۔