آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 68
انحضرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 68 باب اول اللہ تعالیٰ سے الہام پا کر قبل از وقت غیب کی خبروں سے دنیا کو اطلاع دے سکتا ہے تو اس کا آقا کیوں ایسی خبریں نہیں دے سکتا تھا ؟ اگر حضرت مسیح موعودعلیہ السلام کے الہامات میں دنیا کی تمام مخالفتوں منصوبوں اور شرارتوں کا ایسی حالت میں ذکر کر دیا گیا ہے جب سب دنیا آپ کی تائید میں تھی تو قرآن کریم میں کیوں ایسے مضامین قبل از وقت نہیں آسکتے تھے؟ پس اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے وجود سے ان تمام حملوں کا ایسا جواب دے دیا ہے کہ اب دشمن کو منہ کھولنے کی جرات نہیں ہو سکتی۔اب میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ رسول کریم ﷺ کی بد ، وحی اور پہلے انبیاء کی بدء وحی میں کیا فرق ہے۔مستشرقین یورپ نے رسول کریم ﷺ کی ابتدائی وحی پر تو اعتراض کر دیا مگر انہوں نے یہ کبھی نہیں سوچا کہ جن انبیاء کو وہ خود تسلیم کرتے ہیں ان کی کیفیت وحی الہی کے نزول کے وقت کیا ہوئی۔بنی اسرائیل میں سب سے بڑے نبی حضرت موسیٰ علیہ السلام ہوئے ہیں۔ان کے متعلق بائبل میں لکھا ہے کہ وہ اپنے خسر یتر و کے گلہ کی نگہبانی کر رہے تھے کہ انہوں نے کو رب پہاڑ پر ایک درخت آگ میں روشن دیکھا۔حضرت موسیٰ علیہ السلام تیران ہوئے کہ یہ عجیب بات ہے کہ درخت کے اردگر آگ بھی ہے اور وہ جلتا بھی نہیں۔چنانچہ وہ اس نگارہ کو دیکھنے کے لئے آگے بڑھے۔تب : ”خدا نے اس بُوٹے کے اندر سے پکارا اور کہا کہ اے موسیٰ ، اے موسیٰ ! وہ بولا میں یہاں ہوں۔تب اس نے کہا یہاں نزدیک مت آ۔اپنے پاؤں سے جوتا اتا ر کیونکہ یہ جگہ جہاں تو کھڑا ہے مقدس زمین ہے۔پھر اس نے کہا میں تیرے باپ کا خدا اور ابراہام کا خدا اور اسحاق کا خدا اور یعقوب کا خدا ہوں۔موسیٰ نے اپنا منہ چھپایا کیونکہ وہ خدا پر نظر ڈالنے سے ڈرتا تھا۔“ (خروج باب ۳ آیت ۴ تا ۷ ) اب دیکھو رسول کریم میں لے اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کی بدروحی میں کتنا بڑا فرق ہے۔رسول کریم ﷺ کے متعلق اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے کہ جب انہوں نے خدا تعالیٰ کو دیکھا تو دنا فتدلى (النجم : 9) محمد رسول الله له خدا تعالیٰ کی طرف دوڑے اور خدا تعالیٰ محمد