آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 67
انحضرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 67 باب اول يُفتَتُون ( ایضاً صفحه ۵۰ ) کیا تیرے ماننے والے یہ سمجھتے ہیں کہ وہ محض اتنی بات پر چھوڑ دئے جائیں گے کہ ہم ایمان لے آئے ہیں اور وہ آزمائش میں نہیں ڈالے جائیں گے۔اگر وہ ایسا خیال کرتے ہیں تو یہ بالکل غلط ہے۔ان پر بڑے بڑے مظالم کئے جائیں گے، بڑے بڑے مصائب ان کو برداشت کرنے پڑیں گے اور جب وہ ان امتحانات میں پورے اتریں گے تب انہیں خدا تعالیٰ کے حضور مومن سمجھا جائے گا۔یہ تمام الہامات جن کو او پر پیش کیا گیا ہے ان میں سے کوئی ایک الہام بھی ایسا نہیں جو ۱۸۸۴ء کے واقعات پر چسپاں ہو سکتا ہو بلکہ یہ تمام الہامات وہ ہیں جن میں آئندہ رونما ہونے والے واقعات کی خبر دی گئی ہے۔اسی طرح اور بھی کئی الہامات ہیں جو آئندہ واقعات پر مشتمل ہیں۔مثلاً حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ۱۹۰۳ء میں رویا ء میں دیکھا کہ ”زار روس کا سوٹا میرے ہاتھ میں ہے ( تذکرہ صفحہ ۳۷۷ ،ایڈیشن ۲۰۰۴ ء ) اب اگر یوروپین مستشرقین کی یہ بات صحیح ہے کہ الہامات ہمیشہ واقعات کے بعد گھڑ لئے جاتے ہیں تو اس الہام کی بناء کن واقعات پر ہے ؟ ۱۹۰۳ء میں کونسے ایسے حالات تھے جن کی بناء پر یہ کہا جا سکتا تھا کہ روس کی حکومت ہمارے قبضہ میں آجائے گی۔اس وقت تو ظاہری حالات کی بناء پر یہ کہنا بھی مشکل تھا کہ گورداسپور کے ضلع میں ہمیں غلبہ حاصل ہو جائے گا۔کجا یہ کہ روس کی حکومت ملنے کا دعویٰ کیا جاتا۔اور یہ وہ پیشگوئی ہے کہ اب تک بھی اس کا خفیف سے خفیف اثر نہیں ظاہر ہوا۔لیکن جب یہ پوری ہوگی۔دشمن ہزاروں بہانے یہ ثابت کرنے کے لئے بنائے گا کہ یہ بعد میں بنائی گئی۔غرض حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی کتاب براہین احمدیہ ان تمام اعتراضات کا جواب ہے جو مستشرقین یورپ قرآن کریم کے متعلق کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ وہ آیات جس میں پیشگوئیوں کا ذکر پایا جاتا ہے۔اس زمانہ کی ہیں جب وہ واقعات دنیا میں ظاہر ہو چکے تھے۔م اگر ہم کہتے ہیں اگر تمہارا یہ دعوی صحیح ہے تو تم حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے متعلق ثابت کرو کہ آپ نے جو پیشگوئیاں کی ہیں وہ واقعات کے ظہور کے بعد کی ہیں۔اور اگر تم یہ ثابت نہیں کر سکتے تو تمہیں غور کرنا چاہئے کہ اگر ایک شخص جو اپنے آپ کو رسول کریم ﷺ کا غلام کہتا ہے