آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 66
انحضرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 66 باب اول میں وہی شخص آنا تھا جو لوگوں سے ماریں کھانے کے لئے تیار ہوتا تھا۔مگر اب چونکہ جماعت ترقی کر کے دشمن کے مقابلہ میں ترازو کے تول کی مانند ہے اس لئے منافقین کا بھی ایک عنصر پیدا ہو گیا ہے۔چنانچہ ۱۹۳۴ء میں جب احرار نے شورش بر پا کی اور گورنمنٹ کے بعض افسروں نے بھی ان کی پیٹھ ٹھونکنی شروع کر دی تو اس وقت ہماری جماعت میں سے بعض منافق احرار سے جا کر ملتے تھے اور ہمیں ان کی نگرانی کرنی پڑتی تھی۔اور ابھی تو یہ پیشگوئی صرف قادیان میں پوری ہوئی ہے جب بیرونی مقامات پر بھی جماعت نے ترقی کی اور کفر کے مقابلہ میں اس نے طاقت پکڑنی شروع کر دی تو اس وقت وہاں بھی ایسے لوگ پیدا ہو جائیں گے۔پھر اور ترقی ہوگی تو بیرونی ممالک میں اس پیشگوئی کا ظہور شروع ہو جائے گا۔کبھی یورپ میں یہ پیش گوئی پوری ہوگی کبھی امریکہ میں یہ پیشگوئی پوری ہوگی بھی چین اور جاپان میں یہ پیشگوئی پوری ہوگی اور بھی مصر اور شام اور فلسطین وغیرہ میں یہ پیشگوئی پوری ہوگی۔غرض ۱۸۸۴ء میں جب نہ لوگوں کی مخالفت کا کوئی خیال تھا نہ یہ خیال تھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ذریعہ کسی دن دنیا میں ایک بہت بڑی جماعت قائم ہو جائے گی۔اللہ تعالیٰ نے اعلان فرما دیا کہ تیرے ذریعہ جماعت قائم ہوگی۔وہ جماعت ترقی کرے گی اور جب وہ کفار کے مقابل میں ایک ترازو کے تول پر آجائے گی تو اس وقت بعض منافق پیدا ہو جائیں گے۔حالانکہ یہ باتیں اس وقت کسی کے وہم اور گمان میں بھی نہیں آسکتی تھیں۔پھر فرماتا ہے تَلَطَّفْ بِالنَّاسِ وَتَرَحْمُ عَلَيْهِمْ أَنتَ فِيهِمْ بِمَنْزِلَةِ مُوسَى وَاصْبِرُ عَلى مَا يَقُولُونَ (ايضا مفه: ۵۰۷) تو لوگوں کے ساتھ رفق اور نرمی سے پیش آ اور تو ان پر رحم کر تو ان میں ایسا ہے جیسے موسی اپنی قوم میں تھا اور جو کچھ یہ لوگ کہتے ہیں اس پر صبر کر۔اس میں بتایا گیا ہے کہ جو حالات موسی کے ساتھ پیش آئے تھے وہی تیرے ساتھ پیش آنے والے ہیں۔تیری مخالفت میں بھی لوگوں کی طرف سے بہت کچھ کہا جائے گا تیرا فرض ہے کہ تو صبر سے کام لے۔اب سوال یہ ہے کہ اگر الہامات واقعہ کے بعد بنا لئے جاتے ہیں تو براہین احمد یہ میں یہ بات کس طرح چھپ گئی۔پھر الہام ہے: أَحَسِبَ النَّاسُ أَن يُتْرَكُوا أَن يَقُولُوا آمَنَّا وَهُمْ لَا