آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات

Page 65 of 520

آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 65

انحضرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 65 باب اول آپ کی عزت کرتے تھے مگر اللہ تعالیٰ نے قبل از وقت فرما دیا کہ یہودی اور عیسائی اور مسلمان اور ہندو اور سکھ سب کے سب تیری مخالفت کریں گے اور تیرے خلاف بڑے بڑے منصوبے کریں گے۔وہ چاہیں گے کہ تجھے مٹادیں، تیرے نام کو دنیا سے نا پید کر دیں مگر ہم تیری تائید میں اپنے عظیم الشان نشان دکھائیں گے اور آخر نتیجہ یہ نکلے گا کہ تو غالب آجائے گا اور تیرے مخالف مغلوب ہو جائیں گے۔حالانکہ یہود اور دوسرے غیر ملکی مذاہب کے لوگوں کو آپ کے متعلق کوئی علم ہی نہ تھا۔پھر فرمایا: و اذا قيل لهم لا تفسدوا في الارض قــالــوا انما نحن مصلحون الا انهم هم المفسدون قل اعوذ برب الفلق من شر ما خلق ومن شر غاسق اذا وقب۔(اینا سنی ۶ ۵۰ سنی ۵۰۷) سیدنی آیات ہیں اور منافقوں کے متعلق قرآن کریم میں بیان ہوئی ہیں اور منافق اسی وقت پیدا ہوتا ہے جب ایک طرف جماعت کے غلبہ کے آثار ہوں اور دوسری طرف دشمن بھی ابھی طاقتو ر ہو۔اس حالت کے نتیجہ میں جو پیدائش ہوتی ہے اس کا منافق نام ہوتا ہے۔جس طرح ہر زمین کی پیدا وا را الگ الگ ہوتی ہے اسی طرح دینی منافقت کی پیداوار اس موسم میں ہوتی ہے جب دین دنیا کے ایک حصہ پر غالب آجاتا ہے مگر کفر ا بھی پوری طرح مغلوب نہیں ہوتا۔انہیں کفر کا بھی ڈر ہوتا ہے اور دین کا بھی ڈر ہوتا ہے اور چونکہ اس وقت دو کشتیاں تیار ہو جاتی ہیں۔منافق چاہتا ہے کہ دونوں کشتیوں میں سوار ہو کر سفر کرتا چلا جائے۔نہ وہ پوری طرح دین کی طرف آتا ہے اور نہ وہ پوری طرح کفر کی طرف جاتا ہے۔یہ بھی جرات نہیں کر سکتا کہ مسلمانوں کا مقابلہ کرے کیونکہ ڈرتا ہے کہ وہ جیت نہ جائیں اور یہ بھی جرات نہیں کر سکتا کہ کفار کا مقابلہ کرے۔کیونکہ ان کے متعلق بھی اسے خوف ہوتا ہے کہ ایسا نہ ہو وہ جیت جائیں۔پس فرماتا ہے ایک زمانہ ایسا آنے والا ہے جب تیری جماعت ترقی کرتے کرتے کفار کے مقابلہ میں ایک تر از و پر آجائے گی۔جیسے اس وقت قادیان میں حالت ہے اس وقت تیری جماعت میں منافقوں کا ایک گروہ پیدا ہو جائے گا جو ادھر تجھ سے تعلق رکھے گا اور اُدھر کفار سے تعلق رکھے گا۔چنانچہ ہم دیکھتے ہیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ میں نفاق کی کوئی صورت ہی نہیں تھی۔قادیان