آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات

Page 63 of 520

آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 63

آنحضرت پیر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 63 باب اول کی خبر نہیں۔لعل الله يحدث بعد ذالك أمراً۔اور اس کا مؤلف بھی اسلام کی مالی، جانی قلمی واسانی و حالی و قالی نصرت میں ایسا نا بہت قدم نکلا ہے جس کی نظیر پہلے مسلمانوں میں بہت کم پائی گئی ہے۔“ لوگ جب کسی کتاب کے متعلق تعریفی ریویو لکھتے ہیں تو کہتے ہیں اس سال کی یہ عظیم الشان کتاب ہے اور وہ کتاب بڑی بھاری سمجھی جاتی ہے۔اگر کہہ دیا جائے کہ دس سال میں ایسی کوئی کتاب نہیں لکھی گئی تو اس کی شہرت اور بھی بڑھ جاتی ہے اور اگر کہا جائے کہ ایک صدی کے اندراندر ایسی عظیم الشان کتاب اور کوئی نہیں لکھی گئی تو یہ اس کتاب کی انتہائی تعریف کبھی جاتی ہے۔مگر مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی یہ لکھتے ہیں کہ اس کتاب کی نظیر آج تک اسلام میں تالیف نہیں ہوئی۔گویا ایک صدی کا سوال نہیں ، دوصدیوں کا سوال نہیں، تیرہ سو سال میں مسلمانوں کی طرف سے اسلام کے فضائل کے متعلق ایسی شاندار کتاب اور کوئی نہیں لکھی گئی۔غرض مسلمان کیا اور ہندو کیا اور عیسائی کیا سب براہین احمدیہ کی اشاعت کے وقت حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعریف کرتے تھے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اس کتاب کے شائع ہونے کے بعد ہندوؤں میں مخالفت کا کچھ چھ چا شروع ہو گیا تھا مگر اس سے پہلے ہندوؤں میں بھی آپ کی کوئی مخالفت نہیں تھی بلکہ ان میں سے کئی آپ سے بہت اخلاص رکھتے تھے ، جیسے لالہ بھیم سین صاحب۔اسی طرح اور بہت سے ہندو تھے جو آپ سے خط و کتابت رکھتے تھے اور آپ کی نیکی اور تقوی کو تسلیم کرتے تھے۔اس زمانہ میں یہ احتمال ہی نہیں ہوسکتا تھا کہ کوئی شخص آپ کی مخالفت کرے گا کیونکہ سب کے سب لوگ خواہ وہ کسی مذہب سے تعلق رکھتے ہوں آپ کے الله مداح تھے اور جس طرح رسول کریم ﷺ کو دعوی نبوت سے پہلے لوگ امین اور صدیق کہا کرتے تھے اسی طرح لوگ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی راستبازی کے قائل تھے اور سمجھتے تھے کہ یہ شخص کبھی جھوٹ نہیں بول سکتا۔غرض مسلمانوں ، ہندوؤں اور عیسائیوں تینوں میں سے جو لوگ آپ کے واقف تھے وہ آپ کا ادب اور احترام کرتے تھے اور جو لوگ واقف نہیں تھے وہ نہ دوستی کا اظہار کرتے تھے نہ دشمنی کا۔ایسی حالت میں براہین احمدیہ شائع ہوئی۔اب ہم دیکھتے ہیں