آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات

Page 62 of 520

آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 62

انحضرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 62 باب اول ہیں۔مگر اس کے باوجود وہ آپ سے محبت رکھتا ہے۔آپ سے عقیدت اور اخلاص رکھتا ہے اور اپنے بیٹے کو آپ کے مقدمہ کی مفت پیروی کرنے کا حکم دیتا ہے اور لکھتا ہے کہ اگر تم نے ایسا کیا تو مرزا صاحب کی برکت سے تمہاری زندگی سنور جائے گی۔اسی طرح کو عیسائیوں سے آپ مباھے کرتے رہتے تھے مگر ان میں بھی ہم یہ رنگ دیکھتے ہیں کہ با وجود بحث مباحثہ کے وہ آپ سے محبت اور اخلاص رکھتے۔اس کا ثبوت اس واقعہ سے ملتا ہے کہ جن دنوں آپ سیالکوٹ میں ملازم تھے ایک بہت بڑے انگریز پادری سے جس کا نام پادری ٹیلر تھا آپ اکثر مباحثات کیا کرتے تھے۔ایک دن وہ پادری کچہری میں آیا ور چونکہ اس زمانہ میں پادریوں کا خاص طور پر احترام کیا جاتا تھا۔ڈپٹی کمشنر نے سمجھا کہ پادری صاحب مجھ سے ملنے کے لئے آئے ہیں۔چنانچہ وہ اٹھا، بڑے احترام سے اس کے ساتھ مصافحہ کیا اور پھر کہا کہ فرمائیے میرے لائق کونسی خدمت ہے۔پادری صاحب نے کہا میں آپ سے ملنے نہیں آیا میں تو مرزا صاحب سے ملنے آیا ہوں۔میں اب ولایت جا رہا ہوں اور چونکہ میرے ساتھ ان کے اکثر مباحثات ہوتے رہے ہیں۔میرے دل میں ان کی بڑی عقیدت ہے۔میں نے چاہا کہ ولایت جانے سے پہلے ان سے آخری ملاقات کرلوں۔چنانچہ اس کے بعد حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام جہاں تشریف رکھتے تھے پادری وہیں چلا گیا۔فرش پر بیٹھ گیا اور دیر تک آپ سے باتیں کرتا رہا۔اب دیکھو ایک انگریز با دوری جس سے ملنے میں ڈپٹی کمشنر تک اپنی عزت محسوس کرتا تھا ہندوستان سے رخصت ہونے سے پہلے آپ سے رخصت ہونے کے لئے کچہری گیا۔جبکہ آپ ایک معمولی کلر کی کا کام کرتے تھے اور جبکہ آپ کی عمر اس پادری کے پوتوں سے زیادہ نہ ہوگی۔پھر مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی مسلمانوں کے چوٹی کے علماء میں سے تھے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے براہین احمدیہ لکھی تو مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی نے اس پر ریو یو لکھا : - ہماری رائے میں یہ کتاب اس زمانہ میں اور موجودہ حالت کی نظر سے ایسی کتاب ہے جس کی نظیر آج تک اسلام میں تالیف نہیں ہوئی اور آئندہ