آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 61
انحضرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 61 باب اول میں۔لیکن حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو اللہ تعالیٰ نے ایک ایسے زمانہ میں پیدا کیا جب کتابت کا زور تھا۔پر لیں جاری تھے اور ہر چیز شائع ہو کر فورا لوگوں کی نظروں کے سامنے آجاتی تھی اور یہ نہیں کہا جا سکتا تھا کہ چونکہ الہام میں فلاں واقعہ کا ذکر ہے جو اتنے سال بعد پورا ہوا۔اس لئے یہ الہام اس واقعہ کے بعد کا ہے پہلے کا نہیں۔غرض حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا وجوداس اعتراض کے باطل ہونے پر ایک زیر دست گواہ ہے۔چنانچہ میں اس کے ثبوت میں براہین احمدیہ کے بعض الہامات پیش کرتا ہوں۔براہین احمدیہ انگریزی مطبع میں چھپی ہے۔۱۸۸۰ء میں اس کی پہلی جلد شائع ہوئی تھی اور ۱۸۸۴ء میں چوتھی جلد چھپنے کے بعد اس کتاب کی دو جلد میں قانون کے مطابق گورنمنٹ کو بھجوا دی گئی تھیں بلکہ لنڈن میوزیم میں بھی اس کی کا پیاں محفوظ ہیں اس لئے دشمن یہ نہیں کہہ سکتا کہ مرا این احمد یہ میں جو باتیں لکھی گئی ہیں وہ ۱۸۸۴ء کے بعد کی ہیں۔جب یہ کتاب شائع ہوئی ہے اس وقت حضرت مسیح موعود علیہ السلام بے شک لوگوں میں معروف تھے مگر صرف بطور مباحث کے۔ہزار دو ہزار آدمی آپ کو جانتے تھے مگر اس لئے کہ آپ عیسائیوں یا ہندوؤں وغیرہ کے ان مضامین کا جواب دیتے رہتے تھے جو وہ اسلام کے خلاف لکھتے تھے۔یا ایسے لوگ جانتے تھے جو آپ کے تقویٰ کے قائل تھے اور آپ سے محبت اور اخلاص رکھتے تھے۔مثلاً لالہ بھیم سین صاحب سیالکوٹ کے ایک وکیل تھے۔وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے اس قدر تعلق رکھتے تھے کہ جب آپ پر کرم دین والا مقدمہ ہوا تو اس وقت ان کے بیٹے لالہ کنور سین صاحب ایم اے جو لاء کالج لاہور کے پرنسپل بھی رہے ہیں اور بعد میں جموں ہائیکورٹ کے جج بن گئے تھے ولایت سے بیرسٹری کا امتحان پاس کر کے آئے تھے۔لالہ بھیم سین صاحب کو جب کرم دین والے مقدمہ کا علم ہوا تو انہوں نے اپنے بیٹے کو لکھا کہ تمہاری پڑھائی کا کوئی فائدہ ہونا چاہئے۔مرزا صاحب بڑے مہاتما ہیں ان پر اس وقت ایک مقدمہ دائر ہے تم جاؤ اور اس مقدمہ کی مفت پیروی کرو تا کہ مرزا صاحب کی برکت سے تمہاری زندگی سنور جائے۔اب دیکھو ایک شخص ہندو ہے وہ یہ جانتا ہے کہ آپ ہندوؤں سے ہمیشہ مباحثات کرتے رہتے وہ