آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات

Page 60 of 520

آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 60

آنحضرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 60 باب اول الله ہوا تھا۔اس وقت دشمن نے اس قسم کے خیالات سے فائدہ اٹھانا شروع کر دیا کہ جہاں کسی پیشگوئی کا ذکر آتا وہ کہہ دیتا کہ یہ حصہ تو وقوعہ کے بعد کا ہے حالانکہ وہ حصہ وقوعہ سے مدتوں پہلے نازل ہو چکا تھا اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے بطور پیشگوئی ان میں یہ خبریں موجود ہوتی تھیں کہ کفار مکہ میں سے کوئی فرعون کا مثیل ہوگا۔کوئی ہامان کا قائم مقام ہوگا اور نبی کریم کی مثال پوسٹ کی سی ہوگی۔جس طرح یوسف کو اس کے اپنے بھائیوں نے نکال دیا تھا اسی طرح آپ کے بھائی آپ کو اپنے شہر میں سے نکال دیں گے۔غرض کئی قسم کی پیشگوئیاں تھیں جو اللہ تعالیٰ کے اس کلام میں موجود تھیں جو رسول کریم ﷺ پر نازل ہوا اور جو بعد میں حرف بحرف پوری ہو گئیں مگر چونکہ صحابہ کا زمانہ گزرچکا تھا اور وہ لوگ فوت ہو چکے تھے جن کے سامنے قرآن کریم کا نزول ہوا۔اس لئے دشمن نے اس رنگ میں فائدہ اٹھانا شروع کر دیا کہ جہاں کہیں کوئی امر بطور پیشگوئی ملتا وہ جھٹ کہہ دیتا کہ یہ حصہ وقوعہ کے بعد کا ہے جب واقعات ظاہر ہو چکے تھے۔یہی طریق یورو چین مصنفین نے اختیار کیا ہے۔وہ قرآن کریم کی ہر پیشگوئی کو واقعہ کے بعد نازل شدہ بتاتے ہیں اور دلیل یہ دیتے ہیں کہ دیکھو لوگ کہتے ہیں یہ آیت کی ہے۔حالانکہ اس میں فلاں واقعہ کی خبر ہے جو مد بینڈ میں ہوا اور یہ ثبوت ہے اس بات کا کہ یہ آیت کی نہیں مدنی ہے۔اس سے ان کی اصل غرض یہ ہوتی ہے کہ مسلمانوں کی طرف سے جو کہا جاتا ہے کہ رسول کریم ﷺ نے کئی پیشگوئیاں کیں اور وہ وقت پر پوری ہوئیں یہ دعوی بالکل غلط ہے۔آپ نے کوئی پیشگوئی نہیں کی بلکہ واقعہ کے بعد آپ نے اس رنگ کی آیات ڈحال کر قرآن کریم میں شامل کر دی تھیں۔اس اعتراض کا جواب صحابہ تو دے نہیں سکتے کیونکہ وہ فوت ہو چکے ہیں اور صحابہ کے زمانہ میں یہ سوال نہیں اٹھا کہ وہ اس پر کوئی روشنی ڈال جاتے۔مگر چونکہ اس اعتراض کا جواب ضروری تھا اس لئے اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بعثت سے جہاں اسلام کے اور بہت سے مسائل کو حل کیا وہاں اس ترتیب کے سوال کو بھی اللہ تعالیٰ نے بالکل حل کر دیا ہے۔جب قرآن کریم نازل ہوا ہے اس وقت ساتھ ہی ساتھ اس رنگ میں کتابت نہیں ہوتی تھی کہ جس سے یہ ظاہر ہوتا کہ فلاں آیت کس سال میں نازل ہوئی ہے اور فلاں آیت کس سال