آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 59
انحضرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 89 باب اول سر میور ( سورتوں کو مخصوص نہیں کیا، صرف اتنا کہا ہے کہ یہ سورۃ بعد کی معلوم ہوتی ہے کیونکہ اس میں افرا کہا گیا ہے۔جس سے معلوم ہوتا ہے کہ کہ اس سے پہلے بعض سورتیں نازل ہو چکی تھیں۔لیکن نولڈ کے وغیرہ نے تسلیم کیا ہے کہ یہ سورۃ سب سے پہلے نازل ہوئی ہے۔وہ کہتے نے ہیں جب تاریخ سے ثابت ہے کہ سب سے پہلے اس سورۃ کی آیات رسول کریم ﷺ پر نازل ہوئی تھیں تو ہم تاریخ کے مقابلہ میں قیاس سے کس طرح کام لے سکتے ہیں۔میں اس موقع پر یہ بتا دینا چاہتا ہوں کہ مستشرقین یورپ کو زیادہ تر دھو کا اس بات سے لگا ہے کہ بعض جگہ کفار کی مخالفت کی جو خبریں آجاتی ہیں ان سے وہ سمجھتے ہیں کہ چونکہ الہام واقعہ کے بعد ہونا چاہئے اس لئے جس زمانہ میں مخالفت نہیں تھی اس زمانہ میں کسی سورۃ کے اس حصہ کا نزول تسلیم نہیں کیا جا سکتا جس میں مخالفت کی خبر دی گئی ہو۔گویا ان کے نز دیک جن سورتوں میں مخالفت کا ذکر ہو وہ ہمیشہ مخالفت کے بعد کی ہوتی ہیں۔اس خیال پر بنیا در رکھتے ہوئے وہ بعض دفعہ مگی سورتوں کو مدنی قرار دے دیتے ہیں یا ابتداء میں نازل ہونے والی آیات کو بعد کے زمانہ میں نازل ہونے والی آیات قرار دے دیتے ہیں۔جب اسلام اور مسلمانوں کی پر زور مخالفت شروع ہو گئی تھی۔مگر اس زمانہ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے وجود نے اس خیال کا بطلان خوب اچھی طرح ظاہر کر دیا ہے۔جب قرآن کریم نازل ہور ہا تھا اس وقت تو نہ صحابہ کے دل میں یہ خیال آسکتا تھا اور نہ کسی اور مسلمان کے دل میں کہ کل دشمن قرآن کریم کے متعلق کیا کیا اعتراض کرے گا۔اکثر اعتراضات موجودہ زمانہ میں ہوئے ہیں جن کے ہم جواب دیتے ہیں۔ان میں سے بعض باتیں ایسی ہیں جو صحابہ کے زمانہ میں کوئی اہمیت نہیں رکھتی تھیں۔مثلاً سورتوں کے نزول کی ترتیب معلوم کرنے میں اس وقت کوئی روت پیش نہیں آسکتی تھی۔صحابہ زندہ موجود تھے اور اگر کسی کے دل میں یہ سوال پیدا ہوتا تو اسے کہا جا سکتا تھا کہ زید سے پوچھ لو، بکر سے دریافت کر لو عمر و اور خالد سے اپنی اپنی تسکی کرالو۔مگر جب جواب دینے والے فوت ہو گئے تو اس وقت قدرتی طور پر بعض لوگوں کے دلوں میں یہ سوال پیدا ہونا شروع ہوا کہ فلاں سورۃ کب اتری تھی یا فلاں سورۃ کا فلاں حصہ کب نازل