آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 58
انحضرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 58 باب اول غیر معمولی قابلیت جنون کی علامت ہے تو پھر دنیا کی ترقی عظمندوں سے نہیں بلکہ پاگلوں سے وابستہ ہے اور وہی لوگ اس قابل ہیں کہ ان کا نمونہ بننے کی کوشش کی جائے۔میور نے اس موقع پر اعتراض کیا ہے کہ جب اس سورۃ میں اقرا کہا گیا ہے تو اس سے معلوم ہوتا ہے کہ محادثہ بالنفس والی سورتیں اس سے پہلے نازل ہو چکی تھیں۔اس کا استدلال یہ ہے کہ جب رسول کریم ﷺ کو یہ کہا گیا کہ افسر ا یعنی پڑھ تو ضروری۔ہے کہ ہم تسلیم کریں کہ اس سے پہلے کچھ سورتیں نازل ہو چکی تھیں جن کے متعلق رسول کریم کے کو یہ حکم دیا گیا کہ آپ انہیں لوگوں کو پڑھ کر سنا دیں۔وہ محادثہ بالنفس والی سورتیں سورۃ ائیل اور سورۃ الضحی کو قرار دیتا ہے اور کہتا ہے کہ قوم کے حالات پر غور کرتے کرتے جب ان سورتوں میں آپ نے اپنی قوم کا نقشہ بینچ کر رکھ دیا تو اس کے بعد آپ کو یہ خیال ہوا کہ یہ سورتیں در حقیقت الہامی ہیں اور میرا فرض ہے کہ میں یہ سورتیں لوگوں کو پڑھ کر سناؤں۔اس اعتراض کا جواب یہ ہے کہ یہ ایک تاریخی سوال ہے اس کا قیاس سے تعلق نہیں۔تاریخی امور میں ہمیشہ تاریخ کا حوالہ چاہئے نہ کہ قیاس کا۔اگر تاریخ سورۃ الیل اور سورۃ الضحیٰ کو بعد کی نازل شدہ قرار دیتی ہے تو قیاس کا اس میں کیا دخل ہے۔بے شک کچھ لوگ اِقرا کے بعد سورۃ ن والقلم پھر مزمل اور پھر مدثر کا نزول بتاتے اور کچھ لوگ اِقرا کے بعد سورہ کی ابتدائی آیات کا نازل ہونا بتاتے ہیں۔مگر وہ سورتیں جن کو سر میور محادثه بالنفس والی سورتیں قرار دیتے ہیں ان کا نزول کسی ایک شخص نے بھی افترا سے پہلے قرار نہیں دیا۔دوسرے خودان سورتوں میں کوئی ایسی بات نہیں کہ ان کو پہلے کی قرار دیا جائے۔کیا وہ خیالات جوان سورتوں میں مذکور ہیں بعد میں ظاہر نہیں کئے جاسکتے تھے؟ حقیقت یہ ہے کہ تاریخ کے خلاف قیاس اسی مقام پر پیش کیا جاسکتا ہے جہاں تاریخی واقعہ نا ممکن نظر آئے۔مگر جہاں تاریخی واقعہ چسپاں ہو سکتا ہو وہاں قیاس سے کام لینا محض ایک زبر دستی ہے اور اس زبر دستی کی علم اجازت نہیں دیتا۔یہ بھی یا درکھنا چاہئے کہ کوسر میور کہتے ہیں کہ یہ سورۃ بعد کی ہے اور محادثہ بالنفس والی سورتیں پہلے کی ہیں اور بعض نے کو محادثہ بالنفس والی (بقول