آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 56
انحضرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 56 باب اول وہ کر رہا ہے جو بڑے بڑے عالموں نے بھی نہیں کیا تو تجھے مجنون کس طرح کہا جاسکتا ہے۔اور لوگوں کی کیسی حماقت ہے کہ وہ اتنی موٹی بات کو بھی نہیں سمجھتے کہ عقل اور جنون میں اور علم اور جہالت میں بعد المشرقین ہے۔جب دنیا میں تو علوم کے وہ خزانے تقسیم کر رہا ہے جو بڑے بڑے عالموں کے واہمہ میں بھی بھی نہیں آئے تو بہر حال اسے یہی کہنا پڑے گا کہ تو بڑا عالم ہے۔وہ یہ نہیں کہہ سکتی کہ تو مجنون ہے یا تیرے دماغ میں فتور واقعہ ہو گیا ہے۔اسی حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : وَالْقَلَمِ وَمَا يَسْطُرُونَ مَا أَنْتَ :ن بيعمَةِ رَبِّكَ بِمَجْنُونٍ ن (قم ٣۔٢) اے لوگو آج تک قلم اور دوات سے جو کچھ لکھا گیا ہے اسے ہم محمد رسول اللہ ﷺ کی صداقت اور اس کے مجنون نہ ہونے کے ثبوت کے طور پر تمہارے سامنے پیش کرتے ہیں تم جانتے ہو کہ جب دنیا میں علم الاخلاق پر کوئی کتاب لکھتا ہے تو تم کہتے ہو وہ بڑا عالم ہے۔جب علم العقائد پر کوئی کتاب لکھتا ہے تو تم کہتے ہو وہ بڑا عالم ہے۔جب علم سیاست میں کوئی شخص نئی راہ پیدا کرتا ہے تو تم کہتے ہو وہ بڑا عالم ہے جب علم الاقتصاد میں کوئی شخص نیا مسئلہ نکالتا ہے تو تم کہتے ہو وہ بڑا عالم ہے۔جب علم العائلہ پر کوئی شخص نے رنگ میں روشنی ڈالتا ہے تو تم کہتے ہو وہ بڑا عالم ہے۔مگر محمد رسول اللہ ﷺ تو وہ شخص ہیں کہ آج تک جس علم میں بھی کوئی کتاب لکھی گئی ہے وہ ان کے علم کے مقابل میں بالکل بیچ ہے۔قلمیں انکے مقابلہ میں ٹوٹ چکی ہیں۔عالم ان کے مقابلہ میں گنگ ہو چکے ہیں۔معارف کا ایک سمندر ہے جو انہوں نے دنیا میں بہا دیا ہے اور علوم کا ایک نہ ختم ہونے والا ذخیرہ ہے جو انہوں نے دنیا کے سامنے پیش کیا ہے۔ایسی صورت میں اگر تم تعصب سے کام نہ لوتو بآسانی اس نتیجہ پر پہنچ سکتے ہو کہ محمد رسول اللہ ﷺ کی غیر معمولی قابلیت ان کے غیر معمولی علم اور آسمانی تائید اور ہدایت کے نتیجہ میں ہے نہ کہ نعوذباللہ غیر معمولی جہالت کے نتیجہ میں۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ پاگل اور غیر معمولی عقلمند اور بڑے عالم اور بڑے جاہل میں یہ اشتراک ہوتا ہے کہ یہ بھی اپنے اندر غیر معمولی طاقت رکھتا ہے اور وہ بھی اپنے اندر غیر معمولی طاقت رکھتا ہے۔لیکن اس کے ساتھ ہی یہ فرق ہوتا ہے کہ ایک شخص نیچے کی طرف غیر الله