آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 55
استحضرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 00 باب اول ہم قسم کھا کر پیش کرتے ہیں دوات اور قلم کو اور ان تمام تحریروں کو جو قلم اور دوات سے لکھی گئی ہیں کہ اگر دنیا کی تمام تحریروں کو جمع کیا جائے تو ان سے نتیجہ یہ نکلے گا کہ ما أنت بنغمة رنك بمجنون تو اپنے رب کی نعمت سے پاگل نہیں ہے۔یہ دوسری سورۃ اَنتَ بِنِعْمَةٍ ہے جو رسول کریم ﷺ پر نازل ہوئی اور جس کے ابتداء میں ہی اس اعتراض کا اللہ تعالی نے جواب دے دیا ہے جو پہلی وحی سے لوگوں کے دلوں میں پیدا ہوسکتا تھا اور وہ جواب یہ ہے کہ قلم اور دوات نے جس قد ر علوم لکھے ہیں وہ سب اس امر کے شاہد ہیں کہ تو مجنون نہیں۔یعنی اگر علوم عالموں کے لکھے ہوئے ہیں تو تو ان سے بڑھ کر علم بیان کرتا ہے۔اگر وہ ادنی علوم سے عالم کہلاتے ہیں تو تو اعلیٰ علم سے مجنون کیوں کہلانے لگا۔بہر حال ان سے بڑا عالم کہلائے گا اور تیرا ان سے اختلاف علم کی زیادتی کی وجہ سے کہلائے گانہ کہ علم کی کمی کی وجہ سے۔تیرے مجنون نہ ہونے کی علامت یہ ہے کہ دنیا میں جس قدر روحانی ترقیات یا دین سے تعلق رکھنے والے علوم پائے جاتے ہیں ان سب کے مقابلہ میں تو دنیا کو وہ کچھ سکھائے گاجو اس نے پہلے نہیں سیکھا اور یہ ثبوت ہو گا اس بات کا کہ تو پاگل نہیں۔تیرے دماغ میں کوئی نقص نہیں اور اگر تجھے پاگل قرار دیا جا سکتا ہے تو ان سب لوگوں کو پاگل قرار دینا پڑے گا جنہوں نے دنیا میں علوم کو پھیلایا اور بنی نوع انسان پر علمی اور روحانی رنگ میں احسان عظیم کیا۔لیکن اگر وہ ان کو پاگل قرار نہیں دیتے تو تجھے کس منہ سے پاگل کہہ سکتے ہیں۔کیا وہ نہیں دیکھتے کہ دنیا میں جب کوئی شخص کسی علم پر کوئی کتاب لکھتا ہے تو لوگ اس کو پاگل قرار نہیں دیتے بلکہ کہتے ہیں وہ بڑا فاضل ہے ، بڑا عالم اور سمجھدار ہے، اس نے اس علم کی باریکیوں پر بڑی عمدگی سے روشنی ڈالی ہے۔مگر تو وہ ہے جو ہر علم کے ایسے نکات کو بیان کرتا ہے جن کی طرف اس علم کے بڑے بڑے ماہرین کی بھی آج تک نظر نہیں گئی۔پھر اگر وہ ایک علم پر معمولی روشنی ڈال کر عالم سمجھے جاسکتے ہیں تو تو تمام روحانی، اخلاقی، اقتصادی ، قضائی ، سیاسی ، عائلی علوم کے متعلق ان کے ماہرین سے زیادہ روشنی ڈال کر مجنون کیونکر سمجھا جائے گا۔آخر مجنون کہنے کی کوئی وجہ ہونی چاہئے۔اگر تو کام