آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 54
آنحضرت پیر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 04 باب اول حالت دوسروں سے غیر ہے تو دیکھا یہ جائے گا کہ اس شخص کے حالات بنی نوع انسان کی ترقی کا موجب ہیں یا تنزل کا۔اگر اس کا اپنی قابلیت میں غیر معمولی ہونا بنی نوع انسان کی ترقی کا موجب ہوتو ما نا پڑے گا کہ اس کے حالات کا تغیر عقل کی زیادتی کی وجہ سے ہے اور اگر اس کے حالات بنی نوع انسان کی تباہی اور خرابی کا موجب نظر آئیں تو مانا پڑے گا کہ اس کا تغیر جنون کی وجہ سے ہے۔بہر حال محض کسی کے حالات کا تغیر یا کسی میں غیر معمولی قابلیت کا پایا جانا اس کے جنون کی علامت نہیں ہو سکتا۔پھر یہ بھی دیکھو کہ دشمن نے تو آج یہ اعتراض کیا ہے کہ نزول وحی کے واقعات ظاہر کرتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ کے دماغ میں نعوذ باللہ نقص واقعہ ہو گیا تھا مگر قرآن کریم نے اپنی ابتدائی آیات میں ہی اس سوال کا جواب پوری تفصیل کے ساتھ دے دیا تھا اور دنیا کو بتا دیا تھا کہ اس کا یہ اعتراض سراسر حماقت پر مبنی ہے۔چنانچہ سورہ نون والقلم میں اس اعتراض کا جواب موجود ہے۔یہ بتایا جا چکا ہے کہ مفترین اس امر کو تسلیم کرتے ہیں کہ سورۂ علق کی ابتدائی آیات کے نزول کے معا بعد سورۂ نون و القلم کی کی آیات رسول کریم ﷺ پر نازل ہوئیں اور یہ آیات اسی مضمون کی حامل ہیں کہ رسول کریم ﷺ سے متعلق لوگوں کا خیال کرنا بالکل غلط ہے کہ ان کے دماغ میں کوئی نقص واقعہ ہو گیا ہے۔سیه قرآن کریم کا ایک ایسا اعجاز ہے کہ جس پر غیر مسلم اگر دیانتداری کے ساتھ غور کریں تو انہیں تسلیم کرنا پڑے گا کہ یہ کلام کسی انسانی دماغ کا نتیجہ نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کا نازل کردہ کلام ہے۔دیکھوا بھی دنیا نے یہ اعتراض نہیں کیا تھا کہ نزول وحی کے واقعات رسول کریم میں لے کے جنون کی علامت ہیں مگر اللہ تعالیٰ نے عرش سے دیکھ لیا کہ ایک دن آنے والا ہے جب دشمن نزول وحی کی کیفیت کو نہ سمجھتے ہوئے یہ اعتراض کرے گا کہ رسول کریم ﷺ نعوذ باللہ الله مجنون تھے۔چنانچہ دوسری وہی جو رسول کریم جل ﷺ پر نازل ہوئی اس میں اللہ تعالیٰ نے اس شبہ کا ازالہ کیا اور فر مایا :- ن وَالْقَلَمِ وَمَا يَنظُرُونَ مَا أَنتَ بِنِعْمَةِ رَبِّكَ بِمَجْنُونٍ (هم ٣٠٢)