آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 53
انحضرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 53 باب اول اسلام کا یہ نتیجہ نکالنا کہ رسول کریم ﷺ کو نعوذ باللہ جنون ہو گیا تھا خودان کے مجنون ہونے کی علامت ہے۔دیکھنے والی بات تو یہ ہے کہ کہ کیا رسول کریم ﷺ کی باقی حالتیں بھی مجنونانہ تھیں یا نہیں۔یہ بات ظاہر ہے کہ ہر غیر معمولی قابلیت والے شخص کی حالت دوسروں سے الگ ہوتی ہے۔ایک شخص جو غیر معمولی طور پر حساب کی قابلیت رکھتا ہے وہ ان دوسرے لوگوں سے جو معمولی حساب جانتے ہیں بالکل ممتاز طور پر نظر آتا ہے۔ایک شخص جو غیر معمولی طور پر تاریخ کی واقفیت رکھتا ہے وہ ان دوسرے لوگوں سے جو معمولی تاریخ جانتے ہیں بالکل علیحدہ نظر آتا ہے۔ایک شخص جو غیر معمولی طور پر طلب کی واقفیت رکھتا ہے وہ ان دوسرے لوگوں سے جو معمولی طلب جانتے ہیں اپنے فن میں ایک ممتاز حیثیت رکھتا ہے۔بعض دفعہ مرض معمولی معلوم ہوتا ہے، عام ڈاکٹر اس کا عام علاج کرتا ہے مگر ماہر فن ڈاکٹر اس مرض کی شدت کو سمجھ کر فوراً اس کا دوسرا علاج بتا تا ہے یا عام ڈاکٹر مرض کو شدید بتاتا ہے مگر ماہر فن اس کے معمولی مرض ہونے کو فوراً بھانپ جاتا ہے۔یہی حال سائنس کے مسائل کا ہے۔ایک شخص معمولی مسائل جانتا ہے مگر دوسر الخص سائنس کی بڑی بڑی باریکیوں تک پہنچ جاتا اور دنیا میں کئی اہم ایجادات کا موجب بن جاتا ہے۔غرض الگ الگ قابلیتیں ہیں جو الگ الگ لوگوں میں پائی جاتی ہیں۔کسی شخص کی قابلیت بہت معمولی ہوتی ہے اور کسی شخص کی قابلیت بالکل غیر معمولی ہوتی ہے اور وہ دوسروں سے اپنے کام میں بالکل علیحدہ نظر آتا ہے۔مگر بہر حال کسی شخص میں غیر معمولی قابلیت کا پایا جانا یہ معنے نہیں رکھتا کہ اسے جنون ہو گیا ہے۔اسی طرح غیر معمولی صحت والے کی حالت بھی دوسروں سے بالکل الگ ہوتی ہے۔پس محض غیر معمولی قابلیت کے نتیجہ میں کسی کی الگ حالت ہونے سے اس پر مجنون ہونے کا فتویٰ نہیں لگایا جا سکتا اور جو ایسا کرتا ہے وہ اس بات کا دعویٰ کرتا ہے کہ دنیا کی تمام تر قی مجنونوں سے وابستہ ہے کیا ایسا شخص خود پاگل نہیں؟ یا سوال یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان میں عقل کس لئے رکھی ہے۔اگر عقل کی غرض کوئی اعلیٰ کام کرنا ہے تو پھر اعلیٰ کام کرنا تو عقل کی علامت ہوا نہ کہ جنون کی علامت۔اگر کسی شخص کی