آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page vii
آنحضرت پیر ہونے والے اعتراضات کے جوابات بنایا گیا تو کیفیت یہ ہوگئی کہ L- vii ہر طرف کفر است جوشاں بھیجو افواج یزید دین حق بیمار و ٹیکس بچو زین العابدین اسلام اور بانی اسلام مخالف عیسائی پادریوں اور آریوں کے حملوں میں گھر کر رہ گئے اور خدا تعالیٰ نے الله آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بچے عاشق حضرت مرزا غلام احمد قادیانی کو آپ ﷺ کی دفاع کیلئے کھڑا کیا۔نتایم روز ایوان محمد حضرت مرزا صاحب نے اس راہ میں اپنی جان کی بازی لگانے سے بھی دریغ نہ کیا۔آپ کی دلی کیفیت یہ تھی کہ ے دریس ره گر گندم در بسوزند کہ اگر میں اپنے آقا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی راہ میں مارا جاؤں یا جلا کر راکھ کیا جاؤں تو بھی میں اپنا چہرہ وایر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جدا کرنے والا نہیں۔حضرت بانی جماعت احمد یہ کس محبت اور غیرت سے دارسول اللہصلی اللہ علیہ علم سے جدا بانی احمدیہ فرماتے ہیں: جو لوگ نا حق خدا سے بے خوف ہو کر ہمارے بزرگ نبی حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کو برے الفاظ سے یاد کرتے اور آنجناب پر نا پاک تہمتیں لگاتے اور بد زبانی سے باز نہیں آتے ان سے ہم کیونکر صلح کریں۔میں بیچ بیچ کہتا ہوں کہ ہم شورہ زمین کے سانپوں اور بیابانوں کے بھیڑیوں سے صلح کر سکتے ہیں لیکن ان لوگوں سے ہم صلح نہیں کر سکتے جو ہمارے پیارے نبی پر جو ہمیں اپنی جان اور ماں باپ سے بھی پیارا ہے نا پاک حملے کرتے ہیں۔خدا ہمیں اسلام پر موت دے ہم ایسا کام کرنا نہیں چاہتے جس میں ایمان جاتا رہے“ (پیغام صلح، روحانی خزائن جلد نمبر 23 صفحه 30 ) عشق رسول کا یہی جذ بہ آپ نے اپنے جانشینوں اور اپنے ماننے والوں کو عطا کیا ہے۔چنانچہ آپ کے زمانہ مین بے شمار پادریوں اور آریوں کی طرف سے بے شمار اعتراضات کیے گئے جن کا آپ نے منقولی و معقولی رنگ میں اپنی کتابوں میں جواب دیا۔اور ہر ایسے موقع پر جب دشمنان اسلام نے آپ پر حملہ کیا خواہ وہ امہات المومنین کی بدنام زمانہ کتاب ہو یا رنگیلا رسول یا اہانت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا کوئی اور موقع۔جماعت ہویا احمد یہ اور اس کے رہنماؤں نے قرآنی تعلیم کے مطابق صبر اور تقویٰ کے نمونے دکھاتے ہوئے بانی اسلام کا دفاع کیا۔انہوں نے کبھی ہڑتالوں ، جلاؤ گھیراؤ، مار دھاڑ کے ردعمل سے اپنے عشق کا ثبوت نہیں دیا بلکہ دلائل و برا اتین کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت و ناموس کی حفاظت کی اور درودشریف کے کثرت سے ورد کے ساتھ آپ کے گرد ایک ایسا دفاعی حصار بناڈالا کہ دشمن کی کوئی ہرزہ سرائی ہمارے آقا و مولیٰ تک پہنچنے نہ پائے۔