آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات

Page vi of 520

آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page vi

آنحضرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات vi کرنا کہ اگر آج خدانخواستہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم شہید ہو گئے اور تم میں سے کوئی ایک بھی زندہ بچا تو اللہ کو ہرگز منہ نہ دکھا سکو گے اور اس کے سامنے تمہارا کوئی عذر قبول نہ ہوگا۔" (طبقات ابن سعد جلد اول ) یہی جذ به عشق و وفاد دیگر اصحاب رسول کا تھا۔میدان احد میں حضرت طلحہ نے اپنا ہاتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ کے آگے کر دیا کہ کہیں کوئی تیر آ کر آپ کو نہ لگ جائے۔انہوں نے اپنا ہاتھ تو ٹنڈا کر والیا لیکن رسول اللہ کے چہرہ پر ( جو دراصل اسلام کا چہرہ تھا ) آنچ نہ آنے دی۔دوسری طرف حضرت ابو طلحہ انصاری اپنے آقاد مولی کے آگے یہ کہتے ہوئے سینہ سپر تھے کہ یا رسول اللہ میرا سینہ آپ کے سینہ کے آگے ڈھال ہے۔آپ سر اونچا کر کے نہ دیکھئے کہیں کوئی تیر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو آ کر نہ لگ جائے۔اگر دشمنان اسلام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات بابرکات کے خلاف کوئی نکتہ چینی کرتے یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجو کرتے تو اہل زبان مسلمان شعراء حضرت حسان حضرت عبد اللہ بن رواحد اور حضرت کعب بن مالک نہایت حرکت اور مستعدی سے اپنے آقا و مولیٰ کا دفاع کرتے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خاص طور پر قریش مکہ کی شاعرانہ تعلیوں کا جواب دینے کے لئے حضرت حسان سے فرمایا کہ تم ان دشمنوں کو جواب 22 - روح القدس ( حضرت جبرائیل امین ) تمہارے ساتھ ہے۔پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اس فدائی صحابی کے لئے یہ دعا کرتے تھے کہ اے اللہ ! روح القدس کی تائید سے اس کی مددفر ما کسی نے حضرت حسان سے پوچھا کہ تم قریش کی ہرزہ سرائی اور طعنہ زنی کا جواب کس طرح دو گے جبکہ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی قریش سے ہی ہیں۔انہوں نے کہا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان سے اسی طرح الگ کر دوں گا جیسے مکھن سے بال۔اس طرح انہوں ایسی فصاحت اور قادر الکلامی سے رسول اللہ پر ہونیوالے حملوں کا جواب دیا کہ رہتی دنیا تک یادر ہے گا۔ان کا قابل قدر دلی جذ بہ یہ تھا کہ : فان آبي ووالده و عرضى لعِرْضِ مُحَمَّدٍ مِنْكُمْ وَقَاء کہ میرے والدین اور میری اولا داور میری عزت و ناموس محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت کے لئے قربان ہے۔یوں صحابہ کرام نے اللہ اور اس کے رسول کی محبت اور رضا کی خاطر اپنے آقا و مولی کی ہر میدان میں وہ حفاظت کر کے دکھائی۔جس کے آداب اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں تعلیم فرمائے تھے۔دجال اور یا جوج ماجوج کے دور حاضر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات بابرکات کو جب ایک بار پھر ان حملوں کا نشانہ