آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات

Page 52 of 520

آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 52

انحضرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 82 دور ہوتا ہے۔باب اول پھر سوال یہ ہے کہ جن لوگوں کو جنون ہوتا ہے کیا ان کا حال صرف کپڑا اوڑھنے سے معلوم ہوتا ہے کیا یہ بھی کوئی مینی مسئلہ ہے کہ جو شخص کپڑا اوڑھ لے وہ پاگل ہوتا ہے ؟یا کیا ڈاکٹر یہ پوچھا کرتا ہے کہ فلاں نظارہ کے وقت تم کپڑا اوڑھتے ہو یا نہیں؟ پس محض زملوني زَمَلُونی کے الفاظ سے مخالفین اسلام کا یہ استدلال کہ رسول کریم ﷺ کے دماغ میں تعوذ باللہ نقص واقعہ ہو گیا تھا، بالکل احمقانہ استدلال ہے۔بے شک اس وقت آپ پر گھبراہٹ طاری ہوئی مگر گھبراہٹ کا طاری ہو نا ہر گز آپ کے اندر روحانی ، دماغی یا جسمانی نقص کے پائے جانے کا ثبوت نہیں۔بلکہ اس خشیت الہی کا ثبوت ہے جو آپ کے دل میں پائی جاتی تھی۔ہم نے تو دیکھا ہے معمولی دنیوی واقعات پر بعض لوگ دوسروں سے اس قدر مرعوب ہوتے ہیں کہ ان کا پسینہ بہنے لگ جاتا ہے۔افسر کسی غلطی پر تنبیہ کرے یا کسی معاملہ کے متعلق ان سے باز پرس کی جائے تو اس قدر ان پر رعب طاری ہوتا ہے کہ ہاتھ پاؤں کا پنپنے لگ جاتے ہیں اور بعض دفعہ تو پسینہ جاری ہو جاتا ہے۔جب معمولی افسروں کے رعب کی وجہ سے انسان کی یہ حالت ہو جاتی ہے تو سوچنا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ کی عظمت اور اس کے جلال اور اس کی جبروت کا آپ پر کس قدر اثر ہوسکتا تھا۔پس آپ نے اگر زملُونِی زَمَلُونی کہا تو اس کی وجہ در حقیقت یہی تھی کہ آپ پر الہی کلام کا رعب طاری ہو گیا۔آپ نے چاہا کہ تھوڑی دیر کے لئے آپ لیٹ جائیں تا کہ آپ کے قومی کو سکون حاصل ہو جائے۔وہ لوگ جو اس کو جنون کا نتیجہ قرار دیتے ہیں ان سے ہم پوچھتے ہیں کہ کیا کپڑا اوڑھنا جنون کی علامت ہوتی ہے؟ ہم نے تو کبھی نہیں سنا کہ کوئی ڈاکٹر کسی ایسے مریض کے پاس گیا ہو جس میں جنون کے آثار پائے جاتے ہوں تو اس نے مریض کے لواحقین سے یہ سوال کیا ہو کہ کیا یہ مریض کبھی کپڑا بھی اوڑھتا ہے یا نہیں ؟ اگر کپڑا اوڑھتا ہے تو ضرور پاگل ہے اور اگر کپڑا نہیں اوڑھتا تو پاگل نہیں۔ایسا سوال آج تک کبھی کسی ڈاکٹر نے نہیں کیا۔پس محض کپڑا اوڑھنے سے مخالفین