آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات

Page 51 of 520

آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 51

انحضرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 51 باب اول اگر وہ دیکھے کہ وہ پہاڑ سے گر گیا ہے تو اس کے معنے یہ ہوں گے کہ کوئی بری بات ظاہر ہوگی اور وہ تباہ ہو جائے گا۔لیکن اگر وہ رویا میں پہاڑ سے گرا تو ہے مگر مرا نہیں تو اس کے یہ معنے ہوں گے کہ اس سے کوئی بڑی بھاری غلطی ہوگی یا کوئی بڑا بھاری کام کرے گا۔جس کے نتیجہ میں اسے صدمہ پہنچے گا مگر اس کے باوجود وہ ہلاک نہیں ہو گا اور اگر کوئی شخص دیکھے کہ وہ پہاڑ سے گرنے لگا تھا مگر فرشتہ نے اسے کہا کہ گھبراتے کیوں ہو تو اس کے معنے یہ ہوں گے کہ وہ کوئی بڑا کام کرنے والا ہے جس میں بظاہر تباہی ہوگی مگر وہ تباہ نہیں ہوگا بلکہ کامیاب و با مراد ہو گا۔صلى الله اگر ہم اس واقعہ کو ظاہری قرار دیں تب بھی یہ اس خشیت الہی کا ثبوت ہے جو رسول کریم کے دل میں پائی جاتی تھی کیونکہ آپ نے ایسا فعل نزول وحی پر نہیں کیا بلکہ وحی کے رکنے پر کیا۔جس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ آپ کو یہ گھبراہٹ تھی کہ کیا میرے کسی فعل کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ناراض ہو کر مجھ سے بولنا تو ترک نہیں کر دیا۔لیکن میرے نز دیک یہ ظاہری واقعہ نہیں جس کا ایک ثبوت اس سے بھی ملتا ہے کہ ہر دفعہ فرشتہ ظاہر ہو جاتا اور وہ آپ کو آپ کی کامیابی کی بشارت دیتا۔فرشتہ کا آنا خود اپنی ذات میں اس بات کی ایک دلیل ہے کہ ہم اسے ظاہری واقعہ قرار نہیں دے سکتے۔دوسری دلیل اس کی یہ ہے کہ قرآن کریم نے اس واقعہ کا سرے سے ذکر ہی نہیں کیا۔اب رہا وحی کا سوال۔دشمن کہتا ہے کہ آپ کا اس وقت رُ مَلُونِی زَمَلُونی کہتا اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ ایک بیماری کا حملہ تھا۔ہسٹیریا کا دورہ آپ کو ہوا اور آپ نے اپنے گھر کا والوں سے کہا کہ جلدی مجھ پر کپڑا ڈال دو۔مگر یہ سوال بھی وحی الہی سے نا واقفیت کا نتیجہ ہے۔اصل بات یہ ہے کہ جیسا کہ اصحاب وحی جانتے ہیں وحی الہی کے نزول کے وقت اس قدر خشیت کا نزول ہوتا ہے کہ جوڑ جوڑ مل جاتا ہے کیونکہ یہ مقام قرب ہے۔دربار کی شمولیت کا حال تو درباری ہی جانتا ہے۔دوسرے کو کیا خبر ہو سکتی ہے۔پس یہ حالت اس قرب کی وجہ سے تھی جو اللہ تعالی کے حضور آپ کو حاصل تھا مگر اس حقیقت کو وہ لوگ نہیں سمجھ سکتے جو روحانیت کے اس کو چہ سے قطعی طور پر نا آشنا ہیں اور جو اللہ تعالیٰ کے قرب سے ویسے ہی دور ہیں جیسے مشرق سے مغرب