آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 50
انحضرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 50 باب اول میرے کسی فعل کی وجہ سے اللہ تعالیٰ مجھ سے ناراض نہ ہو گیا ہو۔پس یہ واقعہ بھی وحی الہی کے متعلق آپ کے کسی شبہ کو ظاہر نہیں کرتا۔میں اس جگہ یہ بھی ذکر کر دینا چاہتا ہوں کہ کو اس واقعہ کی میں نے ایک تو جیہ کی ہے اور اس اعتراض کو رڈ کیا ہے جو یورو چین مصنفین کی طرف سے رسول کریم ﷺ پر کیا جاتا ہے مگر میرے نزد یک چونکہ صحیح احادیث میں یہ ذکر آتا ہے کہ رسول کریم ﷺ نے کئی دفعہ پہاڑ کی چوٹیوں سے اپنے آپ کو گرانا چاہا اس لئے ہم اس واقعہ سے کلیہ انکار نہیں کر سکتے۔مگر اس کے ساتھ ہی میں یہ بھی سمجھتا ہوں کہ لوگوں کو اس واقعہ کے سمجھنے میں سخت غلطی لگی ہے۔وہ خیال کرتے ہیں کہ یہ ایک ظاہری واقعہ ہے جس کا احادیث میں ذکر آتا ہے۔رسول کریم ﷺ نعوذ باللہ خودکشی کا ارادہ سے پہاڑ پر چڑھ جاتے اور اپنے آپ کو نیچے گرانا چاہتے مگر معاجبریل آپ کو آواز دیتا کہ آپ ایسا نہ کریں۔آپ واقعہ میں خدا کے رسول ہیں۔اس پر رسول کریم میں رک جاتے اور اپنے گھر میں واپس آ جاتے۔لوگ اس واقعہ کو ظاہر پر محمول کرتے ہیں اور اس طرح خود بھی ٹھوکر کھاتے اور دوسروں کے لئے بھی ٹھوکر کا موجب بنتے ہیں۔حالانکہ یہ ظاہری واقعہ نہیں بلکہ کشفی واقعہ ہے۔کشف میں رسول کریم ﷺ یہ دیکھتے تھے کہ میں پہاڑوں پر پھر رہا ہوں اور اپنے آپ کو گرانا چاہتا ہوں مگر فرشتہ مجھے آواز دیتا ہے کہ ایسا مت کریں آپ واقعہ میں خدا تعالیٰ کے رسول ہیں۔اصل بات یہ ہے کہ چونکہ رسول کریم میلے کے دل میں بار بار یہ خیالات اٹھتے تھے کہ میں اتنا بڑا کام کس طرح کر سکوں گا۔ایسا نہ ہو کہ میں خدا تعالیٰ کی ناراضگی کا مورد بن جاؤں اس لئے اللہ تعالی نے آپ کے ان خیالات کو کشفی صورت میں اس رنگ میں ظاہر کیا کہ آپ پہاڑ کی چوٹیوں سے اپنے آپ کو نیچے گرانا چاہتے ہیں مگر فرشتہ آواز دیتا ہے يَا مُحَمَّدُ إِنَّكَ رَسُولُ اللهِ حَف - اے محمد الا اللہ آپ تو اللہ تعالی کے بچے رسول ہیں۔آپ اپنے مقصد میں ضرور حَقًّاا کامیاب ہوں گے کیونکہ آپ کو اللہ تعالیٰ نے اس مقصد کے لئے کھڑا کیا ہے۔پس میرے نزدیک یہ کوئی ظاہری واقعہ نہیں بلکہ ایک کشف ہے جس میں رسول کریم ﷺ کے خیالات کی ترجمانی کی گئی ہے۔در حقیقت رویا میں اگر کوئی شخص دیکھے کہ وہ پہاڑ سے اپنے آپ کو گرا رہا ہے تو