آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات

Page 49 of 520

آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 49

انحضرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 49 باب اول الله طالب نہیں صرف اتنی درخواست کرتا ہوں کہ تو مجھے اپنی سزا سے محفوظ رکھ۔کیونکہ میں جانتا ہوں کہ میں نے کوئی کام نہیں کیا۔مجھے خدمت کا حق جس رنگ میں ادا کرنا چاہئے تھا اس رنگ میں ادا نہیں کیا۔اسی طرح رسول کریم ﷺ پر نزول وحی کے بعد جو گھبراہٹ طاری ہوئی اس کی وجہ در حقیقت یہی تھی کہ آپ کے دل میں خوف پیدا ہوا کہ میرے سپر واللہ تعالیٰ کی طرف سے جو عظیم الشان کام کیا گیا ہے نہ معلوم میں اس کو ادا کر سکتا ہوں یا نہیں۔پس رسول کریم ﷺ کا یہ فعل وحی الہی پر شک کی وجہ سے نہ تھا بلکہ خدا تعالیٰ کی شان کے انسانی دماغوں سے بالاتر ہونے پر یقین کامل کے نتیجہ میں تھا۔اور آپ کو یہ فکر لگ گیا تھا کہ میں اس کام کے لئے خواہ کتنی بھی قربانی کروں نہ معلوم اللہ تعالیٰ کے ارادوں کے مطابق میں بلند ہوسکوں گا یا نہیں۔اور اللہ تعالیٰ کی بلند شان سے خوف کرنا جرم نہیں بلکہ اعلیٰ درجہ کی نیکی ہے۔اور خدا تعالیٰ کے علو مرتبت کو مد نظر رکھتے ہوئے برا نہیں بلکہ اس بے نظیر خشیت الہی کا ایک بین ثبوت ہے جو رسول کریم ﷺ کے قلب مطہر میں پائی جاتی تھی۔باقی رہا یہ کہ آپ نے خود کشی کا ارادہ کیا۔سو اول تو دوسری احادیث سے اس کی تصدیق نہیں ہوتی لیکن اگر اسے تسلیم بھی کر لیا جائے تو صاف پتہ لگتا ہے کہ آپ نے جو فعل کیا وہ وحی الہی کے رکنے کے بعد کیا۔اگر آپ کے دل میں یہ خیال ہوتا کہ نعوذ باللہ مجھ پر شیطان نے اپنا کلام نازل کیا ہے یا کلام الہی کے بارہ میں آپ کو کوئی شبہ ہوتا تو چاہئے تھا کہ اس وحی کے نزول کے وقت آپ خود کشی کا ارادہ فرماتے۔مگر حدیث میں ذکر آتا ہے کہ آپ نے فترت کے بعد خودکشی کا ارادہ کیا جس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کی گھبراہٹ یہ تھی کہ کیا میرے کسی فعل کی وجہ سے اللہ تعالی ناراض ہو کر مجھ سے بولنا چھوڑ بیٹھا ہے۔اتنا عرصہ گزرگیا اور مجھ پر اس کا کلام نازل نہیں ہوا۔اگر وحی کے متعلق آپ کو شبہ ہوتا تو چاہئے تھا کہ جب کچھ عرصہ کے لئے وحی کا نزول رک گیا تھا آپ خوش ہوتے اور کہتے الحمداللہ میں ایک بلا سے بچ گیا۔مگر تمام حدیثیں متفقہ طور پر یہ واقعہ بیان کرتی ہیں کہ وحی کے رُک جانے پر رسول کریم ﷺ کو گھبراہٹ پیدا ہوئی۔جس سے علیہ معلوم ہوتا ہے کہ آپ کو وحی یا الہامات کی صداقت میں شبہ نہیں تھا۔آپ کو صرف یہ خوف تھا کہ