آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 48
انحضرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 48 باب اول خیال شروع ہو جاتا ہے کہ ایسا نہ ہوئیں اپنی کسی غفلت کی وجہ سے ناکام ہو جاؤں اور جو کام میرے سپر د کیا گیا ہے اس کو سرانجام دینے سے قاصر رہوں۔تاریخ اسلام میں اس کی ایک موٹی مثال موجود ہے۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ اپنی خلافت کے آٹھ سالہ عرصہ میں دنیا کی کایا پلٹ دیتے ہیں، روم اور ایران کو شکست دے دیتے ہیں، عرب کی سرحدوں پر اسلامی فوجیں بھجوا کر اسے ہر قسم کے خطرات سے محفوظ کر دیتے ہیں، اسلام اور مسلمانوں کے مفاد کے لئے وہ کام کرتے ہیں جو قیامت تک ایک زندہ یادگار کی حیثیت میں قائم رہنے والا ہے۔مگر جب آپ روم کو شکست دے دیتے ہیں، جب ایران کو شکست دے دیتے ہیں والا جب یہ دو زیر دست ایمپائر اسلامی فوجوں کے متواتر حملوں سے ٹکڑے ٹکڑے ہو جاتی ہیں ، جب عمر کا نام ساری دنیا میں گونجنے لگتا ہے، جب دشمن سے دشمن بھی تسلیم کرتا ہے کہ عمر نے بہت بڑا کام کیا۔اس وقت خود مٹر کی کیا حالت تھی۔تاریخ میں لکھا ہے کہ جب آپ وفات پانے لگے تو اس وقت آپ کی زبان پر بار بار یہ الفاظ آتے تھے کہ رَبِّ لَا عَلَيَّ وَلَالِی اے میرے رب ! میں سخت کمزور اور خطا کار ہوں۔میں نہیں جانتا مجھے سے اپنے کام کے دوران کیا کیا غلطیاں سرزد ہو چکی ہیں۔الہی میں اپنی غلطیوں پر نادم ہوں۔میں اپنی خطاؤں پر شرمندہ ہوں اور میں اپنے آپ کو کسی انعام کا مستحق نہیں سمجھتا۔صرف اتنی التجا کرتا ہوں کہ تو اپنے عذاب سے مجھے محفوظ رکھ۔غور کرو اور سوچو کہ ان الفاظ سے حضرت عمرہ کی کتنی بلند شان ظاہر ہوتی ہے۔آپ کے سپرد اللہ تعالی کی طرف سے ایک کام کیا گیا اور آپ نے اس کو ایسی عمدگی سے سر انجام دیا کہ یورپ کے شدید سے شدید دشمن بھی اس کام کی اہمیت کا اقرار کئے بغیر نہیں رہ سکے مگر چونکہ آپ کے دل پر خدا کا خوف طاری تھا آپ نے سمجھا کہ بے شک میں نے کام کیا ہے مگر ممکن ہے اللہ تعالیٰ اس سے بھی زیادہ کام چاہتا ہو اور میں جس کام کو اپنی خوبی سمجھتا ہوں وہ اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں خوبی نہ ہو۔اس لئے باوجود اتنا بڑا کام کرنے کے وفات کے وقت آپ تڑپتے تھے اور بار بار آپ کی زبان پر یہ الفاظ جاری ہوتے تھے کہ رَبِّ لَا عَلَى وَلا لی۔خدایا میں تجھ سے کسی انعام کا