آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 47
انحضرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 47 باب اول گھبرا ہٹ اور اضطراب کا اظہار کرنا در حقیقت یہی معنے رکھتا ہے کہ آپ اپنے کام کی اہمیت کو سمجھتے تھے۔جب اللہ تعالی نے دنیا کی اصلاح کا کام آپ کے سپرد کیا تو فورا آپ کو فکر شروع ہو گیا کہ اتنا بڑا کام جو میرے سپرد کیا گیا ہے نہ معلوم میں اس کو الہی منشاء کے مطابق سر انجام دے سکوں گا یا نہیں۔آپ کے سپر د جو کام کیا گیا اور جس کا پہلی وحی میں ہی بڑی تفصیل کے ساتھ ذکر کر دیا گیا تھا وہ یہ تھا کہ : اِقْرَأْ بِاسْمِ رَبَلَكَ الَّذِى خَلَقَثُ خَلَقَ الْإِنْسَانَ مِنْ عَلَقٍ 8 اقْرَأْ وَرَبُّكَ الْأَكْرَمُ الَّذِي عَلَّمَ بِالْقَلَونَ عَلَمَ الْإِنْسَانَ مَالَمْ يَعْلَمُ ن ان آیات کا خلاصہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے رسول کریم ﷺ سے فرمایا آج جن لوگوں کے ہاتھوں میں قلمیں ہیں، جو بڑے بڑے علوم کے ماہر سمجھے جاتے ہیں جن کو اپنے تجربہ اور اپنی علمی نگاہ کی وسعت پر ناز ہے۔تو ان کو وہ علم سکھا جو ان کے ذہن کے کسی گوشہ میں بھی نہیں۔اور ان علوم اور معارف سے انہیں بہرہ ور فرما جو آج دنیا کی کسی کتاب میں بھی نہیں ملتے۔یہ سیدھی بات ہے کہ جب ایک امی کو یہ کہا جائے گا کہ دنیا نے کتابیں لکھیں مگر بے کا رثا بت ہوئیں اور وہ دنیا کی ہدایت کا موجب نہ بن سکیں۔اب اے شخص ہم تیرے سپرد یہ کام کرتے ہیں کہ جو علوم آج تک بڑی بڑی کتا ہیں لوگوں کو سکھا نہیں سکیں وہ علوم تو ہمارے حکم سے لوگوں کو سکھا تو لازماً اس کے جسم پر کپکپی طاری ہو جائے گی کہ اتنا بڑا کام میں کس طرح کر سکوں گا۔بے شک ایک پاگل کو جب یہ کہا جائے گا تو وہ خوش ہو جائے گا اور کہے گا یہ کونسا بڑا کام ہے۔مگر عقلمند کا دل خوف سے بھر جائے گا اور وہ کہے گا اتنا بڑا کام میں کس طرح کر سکوں گا۔پس رسول کریم ﷺ کا یہ فرمانا کہ فَدَخَشِيتُ عَلی نَفْسِسی آپ کے علم کامل پر ایک زبر دست گواہ ہے۔وہ لوگ جو اس واقعہ سے یہ استدلال کرتے ہیں کہ نعوذ باللہ رسول کریم ﷺ کے دماغ میں نقص واقع ہو گیا تھا انہیں غور کرنا چاہئے کہ کیا با گل بھی کبھی گھبراتا ہے؟ اسے تو اگر کہا جائے کہ کیا تم ساری دنیا فتح کر سکتے ہو تو فورا کہہ دے گا کہ یہ کونسی مشکل بات ہے۔مگر وہ جسے اپنی ذمہ داری کا احساس ہوتا ہے جو کام کی اہمیت کو سمجھتا ہے جو فرائض کی بجا آوری کے لئے ہر قسم کی قربانی کرنے کے لئے تیار رہتا ہے وہ کام کے سپر دہونے پر لرز جاتا ہے۔اس کا جسم کانپ اٹھتا ہے اور اس کے دل میں باربار یہ +