آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات

Page 46 of 520

آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 46

آنحضرت پیر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 46 باب اول دوسرا سوال یہ کیا جاتا ہے کہ رسول کریم ﷺ کو اپنی رویا پر شک تھا۔اس سوال کی بنیا داس امر پر رکھی جاتی ہے کہ: الف : رسول کریم ﷺ گھبرائے ہوئے حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے۔باء: آپ نے حضرت خدیجہ سے فرمایا قَدْ خَشِيتُ عَلَى نَفْسِی۔مجھے تو اپنے نفس کے متعلق ڈر پیدا ہو گیا ہے۔ج فترة وحی پر آپ نے اپنے آپ کو ہلاک کرنا چاہا جیسا کہ بخاری اور مسند احمد بن حنبل دونوں میں اس واقعہ کا ذکر آتا ہے۔اس سوال کا جواب یہ ہے کہ گھبرانا اور خَشِیتُ عَلى نَفْسِسی کہنا تو اس وجہ سے تھا کہ ہر انسان کامل کے اندر یہ احساس ہوتا ہے کہ میں اپنے فرض کو ادا کر سکوں گا یا نہیں۔جو شخص چھچھورا ہوتا ہے یا ادنی طبقہ سے تعلق رکھنے والا ہوتا ہے اس کے سپر د جب کوئی کام کیا جاتا ہے تو بغیر اس کے کہ وہ عواقب پر نگاہ دوڑائے اور اپنے کام کی اہمیت کو سمجھے کہہ دیتا ہے کہ اس کام کی کیا حقیقت ہے میں اسے فورا کرلوں گا۔لیکن عقلمند انسان کی یہ حالت ہوتی ہے کہ اس کے دل میں فوراً گھبراہٹ پیدا ہونی شروع ہو جاتی ہے کہ نہ معلوم میں اپنے فرض کو ادا کر سکوں گا یا نہیں۔قابل اور نا قابل میں یہی فرق ہوتا ہے کہ قابل کو فورا اپنے کام کا فکر پڑ جاتا ہے مگر نا قابل کو کوئی احساس نہیں ہوتا۔وہ سمجھتا ہے کہ کام بالکل آسان ہے۔میں سمجھتا ہوں موجودہ جنگ میں ہی جو کام جنرل الیگزنڈر یا جنرل منٹگمری یا لارڈ مونٹ بیٹن کے سپر د کیا گیا ہے اگر یہی کام کسی ہندوستانی صو بیدار کے سپر د کیا جاتا اور اس سے پوچھا جاتا کہ تم فوجوں کی کمان کر سکو گے؟ تو بغیر سوچے سمجھے وہ فورا جواب دیتا ہے کہ میں اس کام کو اچھی طرح سرانجام دے سکوں گا۔مگر یہ وہ لوگ تھے جن کے سپر د جب کام ہوا تو ذمہ داری کا احساس رکھنے کی وجہ سے ان کے دلوں میں خوف پیدا ہوا کہ نہ معلوم ہم اپنے فرائض کو کماحقہ ادا کر سکیں گے یا نہیں۔پس کسی کام کے سپر دہونے پر دل میں گھبراہٹ پیدا ہونا علم کامل کی علامت ہوتی ہے نہ اس بات کی علامت کہ وہ کام کی اہلیت نہیں رکھتا۔رسول کریم مے کا بھی نزول وحی پر گھبرانا اور آپ کا حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا سے اپنی