آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 45
انحضرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 40 باب اول دیکھا تو اس میں اختلاف کی کوئی بات نہیں۔یہ ایسی ہی بات ہے جیسے حضرت یوسف علیہ السلام نے جب یہ ذکر کیا کہ میں نے گیارہ ستاروں اور سورج اور چاند کو سجدہ کرتے دیکھا ہے تو اس میں خواب کا کوئی لفظ استعمال نہیں کیا۔مگر حضرت یعقوب علیہ السلام نے اسی نظارہ کے متعلق رویا کا لفظ استعمال کر دیا جو محاورہ میں نیند کی حالت میں دیکھے ہوئے نظارہ کے متعلق بولا جاتا ہے۔چنانچہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بھی ان معنوں میں رویا کا لفظ استعمال کیا ہے۔آپ فرماتی ہیں : أَوَّلُ مَابَدِي بِهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْوَحْيِ الرُّؤْيا الصَّادِقَةُ فِي النَّوْمِ فَكَانَ لَا يَرَى رُؤْيَا إِلَّا جَاءَتْ مِثْلَ فَلَقِ الصُّبْحِ یعنی رسول کریم الله پر وحی الہی کا آغاز رویا صالحہ سے ہوا۔یہاں رویا کا لفظ صرف انہی نظاروں کے لئے استعمال کیا گیا ہے جو انسان سوتے ہوئے دیکھتا ہے۔پس یوروپین مصنفین کی طرف سے جو اختلاف پیش کیا جاتا ہے وہ در حقیقت اختلاف نہیں بلکہ محاورہ زبان کو نہ سمجھنے کا نتیجہ ہے۔اگر یہ رویا ہی تھی جو صلى الله رسول کریم ﷺ نے دیکھی تو بہر حال جیسا کہ ہمیں یقین اور وثوق ہے یہ رویا اس قسم کی نہیں تھی جس میں انسان پر کامل نیند طاری ہوتی ہے۔چنانچہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بھی فرق کرتی ہیں آپ ایک طرف تو یہ فرماتی ہیں کہ : أَوَّلُ ما بدى به رَسُولُ الله صلى الله عَلَيْهِ وَسَلَّم مِنَ الْوَحْيِ الرُّؤْيَا الصَّادِقَةُ فِي النَّوْمِ رسول كريم ﷺ پر وحی کی ابتدا رویا صادقہ سے ہوئی جو آپ سوتے ہوئے دیکھتے مگر اس دوسری وحی کے متعلق جس میں جبریل رسول کریم ﷺ کے پاس آئے آپ فرماتی ہیں فَجَاءَهُ المَلک رسول کریم ﷺ کے پاس فرشتہ آیا۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ دونوں نظاروں میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرق کر رہی ہیں جس کے صاف معنے یہ ہیں کہ غارحرا میں آپ کو جو نظارہ دکھایا گیا وہ گہری نیند والا نہ تھا بلکہ کشفی نیند والا تھا۔اور ابن ہشام والی روایت کے معنے گہری نیند کے نہیں بلکہ کشفی نیند کے ہیں اور آپ کے ان الفاظ کا کہ پھر میں جاگ اٹھا صرف اتنا مفہوم ہے کہ پھر میری کشفی حالت جاتی رہی۔پس ابن ہشام کی روایت اور بخاری ومسند احمد بن حنبل کی حدیث میں کوئی اختلاف نہیں بلکہ دونوں کا مفہوم ایک ہی ہے۔