آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 44
انحضرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 44 باب اول حقیقت کو نہ سمجھنے کی وجہ سے یورو چین مصنفین کو یہ غلطی لگی ہے۔مسند احمد بن حنبل اور بخاری کی حدیث کو یوں بھی حل کیا جا سکتا ہے کہ بعض دفعہ خواب کا لفظ نہیں بولا جاتا جیسے حضرت یوسف علیہ السلام کے واقعہ میں قرآن کریم حضرت یوسف علیہ السلام کی رویاء کی نسبت فرماتا ہے کہ یوسف نے اپنے باپ سے کہا: إلَى رَأَيْتُ أَحَدَ عَشَرَ كَوْكَبًا وَالشَّمْسُ وَالْقَمَرَ رَأَيْتُهم في سجدين (يوسف:۵) کہ میں نے گیارہ ستاروں اور سورج اور چاند کو دیکھا ہے کہ وہ مجھے سجدہ کر رہے ہیں۔یہاں خواب کا کوئی لفظ نہیں صرف اتنا ذکر ہے کہ میں نے دیکھا۔مگر اگلی آیت میں ہی حضرت یعقوب علیہ السلام یہ بات سن کر فرماتے ہیں قَالَ يُبَنَى لَا تَقْصُضِ رُيَاكَ عَلَى اخْوَتِك (ف:۲) اے میرے بیٹے تو اس رویا کو اپنے بھائیوں کے سامنے بیان نہ کیجیو۔اب دیکھو ایک آیت میں اسے ظاہری نظارہ قرار دیا گیا ہے اور دوسری میں اسے رویا قرار دیا گیا ہے۔پس یہ ایک طریق بیان ہے جو عربی زبان میں رائج ہے۔اس سے کسی اختلاف کا ثبوت نہیں نکل سکتا۔اصل بات یہ ہے کہ مختلف زبانوں میں الگ الگ محاورات رائج ہوتے ہیں۔عربی زبان میں ایسے نظاروں کے لئے رویا کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے جس کے معنے دیکھنے کے ہیں۔کو محاورہ میں ایسے نظارہ کے لئے بھی یہ لفظ استعمال کیا جاتا ہے جو نیند کی حالت میں دیکھا جائے۔لیکن فارسی نے اس کے لئے خواب کا لفظ تجویز کیا ہے۔جس کے معنے نیند کے ہیں۔یہ بھی ایک فرق ہے جو عربی زبان کی فضیلت پر دلالت کرتا ہے۔قرآن کریم نے ہر جگہ رویا کا لفظ ہی خواب کے معنوں میں استعمال کیا ہے۔جس میں اس طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ در حقیقت وہی حالت اصل بیداری کی ہوتی ہے جس میں انسان خدا تعالیٰ سے ہمکلام ہو۔کو ظاہری طور پر اس پر نیند یا ربودگی کی کیفیت طاری ہو۔لیکن ایرانی لوگ چونکہ ماہر نہیں تھے انہوں نے خواب کا لفظ ایجاد کر لیا۔حالانکہ خواب کے معنے محض نیند کے ہیں۔پس رسول کریم ﷺ نے اگر کسی جگہ یہ فرمایا ہے کہ میں نیند سے بیدار ہو گیا اور دوسری جگہ آپ نے صرف اتنا فر مایا ہے کہ میں نے ایسا نظارہ الله