آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات

Page 43 of 520

آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 43

محضرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 43 باب اول نظر آتی ہیں۔مکان کی دیوار میں نظر آتی ہیں۔گھر کا سامان نظر آتا ہے مگر اس کے باوجود وہ محسوس کرتا ہے کہ کوئی اور حالت اس پر طاری ہو گئی ہے جو اسے اس دنیا سے الگ لے گئی ہے۔اسی طرح اس حالت کے جاتے وقت بھی انسان یوں معلوم کرتا ہے کہ وہ کو یا ایک غیر معمولی حالت سے پھر حواس میں آگیا ہے۔اس کی مثال بالکل ایسی ہوتی ہے جیسے ریڈیو کو ایک میٹر سے دوسرے میٹر پر تبدیل کر دیا جاتا ہے۔پہلے وہ محسوس کرتا ہے کہ اسے اس دنیا سے کھینچ کر کسی اور دنیا میں لے جایا گیا ہے اور جب وہ حالت جاتی ہے تو وہ یکدم محسوس کرتا ہے کہ اسے کسی اور دنیا سےاس دنیا میں واپس لوٹا دیا گیا ہے۔اگر ایسا نہ ہوتو انسان کو یہ معلوم ہی نہ ہو سکے کہ اس نے جو کچھ دیکھا ہے وہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ہے یا اس کے نفس کا خیال ہے۔پس بوجہ اس کے کہ وہ حالت کامل نیند کی نہیں ہوتی۔یہ بھی کہا جاتا ہے کہ میں نے جاگتے ہوئے ایسا دیکھا اور بوجہ اس کے کہ جاگنے کی حالت پر ایک خاص تصرف کیا جاتا ہے یہ بھی کہا جاتا ہے کہ نیند طاری ہوئی اور اس میں یہ یہ دیکھا اور میں نے خود اس کا تجربہ کیا ہے اس لئے مجھے اس میں کوئی اچنبھے کی بات نظر نہیں آتی۔پس یہ مادی نظارہ نہیں تھا جو رسول کریم ﷺ نے دیکھا مگر بوجہ اس کے کہ آپ کے حواس ظاہری کام کر رہے تھے ہم اسے یقظہ بھی کہہ سکتے ہیں۔در حقیقت کشف ایک مابین النوم واليقظه کی کیفیت کا نام ہے۔چونکہ وہ حالت کامل نیند کی نہیں ہوتی اس لئے یہ بھی کہا جا تا ہے کہ جاگتے ہوئے فلاں نظارہ دیکھا گیا اور چونکہ جاگنے کی حالت پر خاص تصرف کیا جاتا ہے۔اس لئے یہ بھی کہا جاتا ہے کہ نیند کی حالت میں ہم نے ایسا نظارہ دیکھا۔پس رسول کریم ﷺ نے بھی کسی موقع پر یہ فرما دیا کہ میں نے جاگتے ہوئے ایسا نظارہ دیکھا تھا اور کسی موقع پر آپ نے یہ فرما دیا ہوگا کہ میں نے نیند کی حالت میں ایسا نظارہ دیکھا۔جولوگ صاحب کشوف ہیں وہ ہمیشہ ایسے الفاظ استعمال کرتے رہتے ہیں۔کبھی کہتے ہیں میں یہ نظارہ دیکھ کر جاگ پڑا اور مراد یہ ہوتی ہے کہ میں ربودگی کی کیفیت سے عام حالت میں آگیا اور کبھی کہتے ہیں میں نے جاگتے ہوئے فلاں نظارہ دیکھا اور مراد یہ ہوتی ہے کہ میرے حواس ظاہری بھی اس وقت کام کر رہے تھے۔پس یہ دونوں باتیں آپس میں کوئی اختلاف نہیں رکھتیں محض کشف کی