آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات

Page v of 520

آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page v

آنحضرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات پیش لفظ ہمارے نبی حضرت سید و مولی محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم پر جہاں خدا تعالیٰ کے اور بے انتہا فضل اور احسان ہیں وہاں اس رحمت دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم پر ایک فضل خاص یہ ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کے غلاموں کے دل میں ایسی سچی محبت اور عشق پیدا کر دیا کہ و دیوان دار آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر فدا تھے۔انہوں نے آڑے وہ وقت میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ساتھیوں کی طرح آپ سے یہ نہیں کہا کہ فَاذْهَبْ أَنتَ وَرَبُّكَ فَقَاتِلَا إنَّا هَاهُنَا فَاعِدُونَ (المائدة 20 ) ترجمہ: پس جاتو اور تیرا رب دونوں لڑ و ہم تو یہیں بیٹھے رہیں گے۔بلکہ یہ نعرہ بلند کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم آپ کے دائیں بھی لڑیں گے اور بائیں بھی۔آگے بھی لڑیں گے اور پیچھے بھی۔اور دشمن ہماری لاشیں روندے بغیر آپ تک نہیں پہنچ سکتا۔یہی کیفیت ہر مخلص اور وفا شعار صحابی رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی تھی۔سردار منافقین عبد اللہ بن ابی نے جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کرتے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابلہ میں خود کو معزز ترین انسان قرار دیا۔اس پر ان کے بیٹے عبد اللہ نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! مجھے اجازت دیں میں اس کا سر قلم کر دوں۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ صرف اس کی اجازت نہیں فرمائی۔بلکہ فرمایا کہ لوگ کیا کہیں گے کہ محد صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ساتھیوں کو بھی قتل کر دیتا ہے۔(صحيح مسلم كتاب البر والصلة والادب باب نَصْرِ الْآخِ ظَالِمًا أَوْ مَظْلُومًا) مگر اس وفاشعار اور مخلص صحابی عبد اللہ کے دل کو تسکین نہ ہوئی جب تک اس سفر سے واپسی پر مدینہ میں داخل ہوتے ہوئے اس نے اپنے باپ کو روک کر یہ اقرار نہ کروالیا کہ حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ سلم ہی مدینہ کے معزز ترین انسان ہیں اور وہ خود بینہ کا ذلیل ترین انسان ہے۔اس اقرار کے بعد ہی اس عاشق صادق نے اپنے والد کود بینہ میں داخل ہونے دیا۔بلا شبدان عشاق رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا مذہب ہی یہ تھا کہ کوئی شخص حقیقی مومن نہیں ہو سکتا۔جب تک اپنے والدین، اولاد اور تمام رشتہ داروں سے زیادہ خدا کا رسول اسے پیارا نہ ہو۔وہ خدا کے رسول کی حفاظت اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت وناموس کے لئے ہمیشہ کمر بستہ رہتے تھے۔حضرت سعد بن ربیع نے احد کے میدان میں شہید ہوتے ہوئے اپنی قوم کو آخری پیغام یہی دیا تھا کہ " رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں میر اسلام عرض