آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات

Page 42 of 520

آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 42

انحضرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 42 باب اول کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ کوکوئی فرشتہ اپنی آنکھوں سے نظر نہیں آیا۔صرف ایک خواب تھی جو حرا میں آپ کو آئی۔اگر اس خواب کو درست بھی تسلیم کر لیا جائے تب بھی انبیاء بنی اسرائیل سے آپ کی مشابہت ثابت نہیں ہو سکتی کیونکہ ان کو خد اتعالیٰ کے فرشتے آمنے سامنے نظر آتے تھے اور رسول کریم ﷺ نے جو کچھ دیکھا یہ ایک خواب تھی۔جن لوگوں نے اس بات پر زور دینا چاہا ہے کہ رسول کریم ﷺ کے دماغ میں تعوذباللہ کوئی نقص واقعہ ہو گیا تھا انہوں نے ابن ہشام کی روایت کو نظر انداز کر کے بخاری اور مسند احمد بن حنبل کی وہ حد بیث لے لی ہے جس میں یہ ذکر آتا ہے کہ رسول کریم ﷺ نے فرشتہ کو دیکھا۔وہ کہتے ہیں چونکہ انسانی دماغ اس قسم کا نظارہ نہیں دیکھ سکتا اس لئے یہ نظارہ علامت تھی اس بات کی کہ آپ کا دماغ نعوذ باللہ خراب ہو گیا تھا۔میرے نزدیک یورپین مصنفین کی نیت خواہ کچھ ہواس بارہ میں اختلاف کی اصل وجہ یہ ہے کہ وہ نظاره کشف کی حقیقت کو سمجھتے ہی نہیں۔وہ اس قد ر مذ ہب سے دور جا پڑے ہیں کہ کشفی نظارے ان کو بہت ہی کم نظر آتے ہیں بلکہ خواہیں بھی ان کو بہت کم آتی ہیں۔کو خدائی سنت یہ ہے کہ ہر قسم کے طبقہ کو خوا میں دکھائی جاتی ہیں مگر پھر بھی یورو چین لوگوں میں سے بعض ایسے ہیں جن کو ساری عمر میں بھی کبھی کوئی خواب نہیں آئی اور اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ دن کو کام کرتے ہیں اور رات کو ناچتے ہیں پھر شراب پی کر یا نیند کی دوائیں کھا کر سو جاتے ہیں۔اس وجہ سے انہیں ایسی خواہیں بھی نہیں آتیں جن کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے لکھا ہے کہ وہ کچلیوں کو بھی آجاتی ہیں کیونکہ شراب کا نشہ ان کے دماغ کو بالکل معطل کر دیتا ہے۔پس میرے نزدیک اس بارہ میں اختلاف نظارہ کشف کو نہ سمجھنے کی وجہ سے ہوا ہے اور مغربی لوگ اس علم سے بے بہرہ ہونے کی وجہ سے دھوکا کھا جاتے ہیں۔بات یہ ہے کہ جب کشف کی حالت انسان پر طاری ہوتی ہے تو جیسا کہ صاحب تجر بہ لوگ جانتے ہیں اس وقت انسان اپنے آپ پر ایک ربودیت کی حالت محسوس کرتا ہے اور وہ سمجھتا ہے کرتا اوروہ کہ مجھے اس دنیا سے کھینچ کر کسی اور دنیا میں لے جایا گیا ہے۔اسے اپنے اردگرد کی سب چیزیں