آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 41
انحضرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 41 باب اول کہا مجھے تو پڑھنا نہیں آتا۔قَالَ فَغَطَّنِی بِهِ حَتَّى ظَنَنْتُ أَنَّهُ الْمَوْتِ۔انہوں نے مجھے خوب بھینچا یہاں تک کہ میں نے سمجھا میں مرنے لگا ہوں۔ثُمَّ أَرْسَلَنِي فَقَالَ اقْرَأَ قَالَ قُلْتُ مَا الترا پھر انہوں نے مجھے چھوڑ دیا اور کہا پڑھو۔میں نے کہا میں تو پڑھنا نہیں جانتا۔فنطنی یہ حتى ظننت انه الموت انہوں نے پھر مجھے ڈھانپ لیا یہاں تک کہ میں نے سمجھا میں اب مرنے لگا ہوں۔ثُمَّ أَرْسَلَنِي فَقَالَ اقْرَاْ قُلْتُ مَاذَا اقْرَأ۔پھر انہوں نے مجھے چھوڑ دیا اور کہا پڑھو۔میں نے کہا میں کیا پڑھوں؟ مَا أَقُولُ ذَالِكَ إِلَّا إِقْصِدَاءٌ مِّنْهُ أَنْ يَعُودَلِي بِمِثْلِ مَا صبع بی۔رسول کریم ﷺ فرماتے ہیں میں نے یہ فقرہ کہ میں کیا پڑھوں اس لئے کہا تھا تا اس ذریعہ سے میں اس صدمہ سے بچ جاؤں جو ان کے بھیجنے سے مجھے پہنچنا تھا۔اس پر انہوں نے کہا: اِقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ خَلَقَ الْإِنْسَانَ مِنْ عَلَقٍ۔اِقْرَأْ وَرَبُّكَ الأكْرَمُ الَّذِي عَلَّمَ بِالْقَلَمِ عَلَّمَ الْإِنْسَانَ مَالَمْ يَعْلَمُ۔قَالَ فَقَرَأَتُهَا۔رسول کریم ﷺ فرماتے ہیں اس پر میں نے یہ فقرے دہرائے۔ثُمَّ انْتَهَى فَانْصَرَفَ عَنِّى وَهَبَيْتُ مِنْ نُّؤْمِی پھر انہوں نے بس کر دیا اور مجھ سے لوٹ کر چلے گئے اور میں اپنی نیند سے بیدار ہو گیا۔فكَأَنَّمَا كُتِبَتْ فِي قَلْبِي كِتاباً۔اس وقت مجھے یوں معلوم ہوا کہ میرے دل پر یہ تمام الفا فاش کر دئے گئے ہیں۔اس حوالہ میں صاف طور پر نیند کا لفظ آتا ہے۔وہ کہتے ہیں ہم اس روایت پر بنیا درکھتے ہوئے یہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ در حقیقت یہ ایک خواب تھی جو رسول کریم ﷺ نے دیکھی۔اس تاویل سے ان کا منشاء یہ ہے کہ بائیل کا دعویٰ یہ ہے کہ اللہ تعالی کے فرشتے انسان کو بالمشافہ نظر آتے ہیں اور وہ اسے اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچاتے ہیں۔اگر ہم یہ ثابت کر دیں گے کہ رسول کریم کوفرشتہ نظر نہیں آیا بلکہ ایک خواب تھی جو آپ نے دیکھی تو بائبل کے نبیوں سے آپ کی مشابہت ثابت نہیں ہو سکے گی۔کو بخاری اور مسند احمد بن حنبل میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی جو حد بیث آتی ہے اس میں صاف طور پر یہ ذکر آتا ہے کہ رسول کریم ﷺ نے اپنی آنکھوں کے سامنے جبریل کو دیکھا۔مگر چونکہ یہ حدیث ان کے منشاء کے خلاف ہے اس لئے وہ بخاری یا مسند احمد بن حنبل کی حدیث کی بجائے ابن مہتمام کی اس روایت پر اپنے دعوٹی کی بنیا در رکھتے ہیں اور