آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 40
انحضرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 40 باب اول الله ہیں یہ بیماری اور جھوٹ دونوں کا اجتماع تھا۔پھر واقعہ پر بھی اعتراض کیا جاتا ہے۔آپ کے گھبرانے پر بھی اعتراض ہے کہ آپ کو وحی پر شک تھایا یہ اعتراض ہے کہ اپنی قابلیت پر شک تھایا یہ کہ آپ نے خدا تعالی کا حکم ماننے سے پہلو تہی کی۔یہ بھی اعتراض ہے کہ اس وحی کی نوعیت کیا تھی۔آیا یہ مادی نظارہ یا خواب تھی جو رسول کریم ﷺ کو نظر آئی۔غرض مختلف دشمنوں نے اپنے اپنے رنگ میں استدلال کیا ہے۔غیر مسلم مصنفین کی اصل غرض یہ ہوتی ہے کہ کوئی ایسی بات اٹھا ئیں جس سے قرآن کریم پر حملہ ہو سکے۔چنانچہ بعض نے یہ طریق اختیار کیا ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ یہ وحی ایک نظارہ تھا جو رسول کریم ﷺ نے دیکھا۔اور چونکہ انسانی دماغ اس قسم کا نظارہ دیکھنے کے قابل نہیں ہوتا اس لئے یہ غیر معمولی اور مافوق الطبیعات نظارہ در حقیقت علامت تھی اس بات کی کہ نعوذباللہ رسول کریم صلے کے دماغ میں خشکی پیدا ہو کر جنون رُونما ہو گیا تھا۔لیکن بعض دوسرے مخالفین کا دماغ اس طرف گیا ہے کہ ممکن ہے کہ کچھ لوگ جنون کی تھیوری کو تسلیم نہ کریں اور وہ اس بات کو مان لیں کہ بیچ بیچ اس قسم کا واقعہ ہوسکتا ہے اور اگر انہوں نے مان لیا تو فرشتے دیکھنے یا اللہ تعالیٰ سے ہمکلام ہونے میں وہ رسول کریم ﷺ کو بنی اسرائیل کے نبیوں کے مشابہ قرار دے دیں گے اور یہ بڑی تکلیف دہ بات ہوگی۔پس انہوں نے یہ سوال اٹھایا ہے کہ یہ کوئی نظارہ نہیں تھا جو رسول کریم ﷺ نے دیکھا بلکہ ایک خواب تھی جو آپ کو آئی اور اس میں کوئی شبہ نہیں کہ یہ بات ہماری روایات میں بھی بیان ہوئی ہے۔چنانچہ ابن ہشام لکھتے ہیں: حتى إذا كانت الليلَةُ الَّتِي اكْرَمَهُ اللهُ تَعَالَى فِيهَا بِرِسَالَتِهِ وَ رَحِمَ الْعِبَادَ بِهَا جَاءَهُ جبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلامِ بِاَمرِ اللهِ تَعَالَى یعنی جب وہ رات آگئی جس میں اللہ تعالیٰ نے آپ کو اپنی رسالت سے منتحر فرمایا اور اپنے بندوں پر رحم کیا تو جبریل اللہ تعالیٰ کا حکم لے کر رسول کریم ﷺ کے پاس آئے۔آگے لکھا ہے قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَاءَنِي جِبْرِيلُ وَآنَا نَائِمٌ بِنَمْطٍ مِنْ دِينَاجٍ فِيهِ كِتَابٌ فَقَالَ اقْرَا قَالَ قُلْتُ مَا أَقْرَا یعنی رسول کریم ﷺ فرماتے ہیں میرے پاس جبریل آیا وانا نائم اور اس وقت میں سور ہاتھا۔ایک ریشمی کپڑا ان کے پاس تھا جس میں کچھ لکھا ہوا تھا۔انہوں نے کہا پڑھو۔میں نے