آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات

Page 39 of 520

آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 39

انحضرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 29 باب اول عیسائیوں کے نبوت کے عہدہ سے معزول کر سکتا ہے ہرگز ہرگز نہیں۔دیکھو موسیٰ علیہ السلام کی تو ربیت کتاب خروج اور کتاب قاضی۔موسیٰ علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کی نجات کے لئے منتخب فرمایا۔تو حضرت موسیٰ فرماتے ہیں:۔میں کون ہوں جو فرعون کے پاس جاؤں اور بنی اسرائیل کو مصر سے نکالوں۔خروج ۳ باب ۱۱۔پھر موسیٰ علیہ السلام لگے عذر کرنے کہ میں اچھی طرح بول نہیں سکتا اور پھر اللہ تعالیٰ نے بتا کید کہا کہ تو جا میں تیرے ساتھ ہوں۔پھر اپنی کمزوری پر ان سب باتوں پر بقول عیسائیوں کے اطمینان نہ ہو ا تو عرض کیا کہ کسی اور کو مصر میں بھیج۔تب باری تعالی (موجودہ توریت کہتی ہے ) کا غصہ موسیٰ پر بھڑ کا دیکھو۔تب خداوند کا قہر موسیٰ پر بھڑ کا۔خروج آ باب ۱۴ اور جدعون نے جو کچھ کیا ہے وہ کتاب قاضی ا باب ۳۶ تا ۴۰ درس سے ظاہر ہے۔کیسے امتحانات کرتا رہا۔ذرا منصف عیسائی اس پر پھر غور کریں۔ایک عیسائی کے تین سوال اور ان کے جوابات از حضرت حکیم مولانا نورالدین) آپ کا اپنی وحی پر شک کرنے اور بد الوحی پر دیگر اعتراضات بدء الوحی کے حوالہ سے مخالفین نے اس وحی پر اور آنحضرت ﷺ پر مختلف اعتراضات کئے ہیں۔حضرت مصلح موعودؓ نے سورۃ العلق کی تفسیر میں ان اعتراضات کے مسکت جوابات تحریر فرمائے ہیں۔آپ بیان فرماتے ہیں:۔ابتدا ء وتی ایک نہایت ہی اہمیت رکھنے اور جذبات میں ہیجان پیدا کرنے والی چیز ہے۔اسی وجہ سے دشمنوں کی بھی اس پر خاص طور پر نظر پڑی ہے اور انہوں نے ان آیات اور ابتداء وجی سے تعلق رکھنے والے واقعات سے قسم قسم کے استدلال کرتے ہوئے رسول کریم ہی ہے اور آپ کی وحی کی تنقیص کرنے کی کوشش کی ہے۔کوئی کہتا ہے وحی ایک ڈھکونسلا ہے۔کوئی کہتا ہے وحی ایک بیماری کا حملہ تھی۔چنانچہ آپ کا زملُونِي زَمَلُونی کہنا اس پر شاہد ہے۔کئی کہتے