آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 38
انحضرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 38 باب اول بیت صیدا ( یہ بھی گاؤں ہے ) تجھ پر افسوس متی را باب ۲۱۔اسے یروشلم ! اے یروشلم ! ( یہ بہیت المقدس ہے ) جو نبیوں کو مارڈالتی ہے متی ۲۳ باب ۳۷۔ایسی صد ہا کتب مقدسہ صدہا جگہ دیکھ لو۔اب اس طرح کے محاورات قرآن کریم سے سنو۔(1) بيها الى ان الطلاق (۲) اے نبی ! جب تم لوگو ! عورتوں کو طلاق دو۔(۲) نايُّهَا النَّبِيُّ اتَّقِ اللهَ وَلَا تُطِعِ الْكَفِرِينَ وَالْمُنْفِقِينَ إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلِيمًا حكينا (الاحزاب (۲) اے نبی خدا سے ڈر اور کفار کی فرمانبرداری اور منافقوں کی اطاعت مت کر بیٹک اللہ تعالے جو کچھ تم ( عام لوگوں کو خطاب کرتے ہو اس پر خبر دار ہے۔(۳) وَمَل من انسان من قبلك من رسلك او حرف :۴۶) پوچھ اُن رسولوں سے جو تجھ سے پہلے گزرے۔ان مقامات میں دیکھ لو یا " کے لفظ سے مخاطب کون ہے اور طَلَّقْتُم سے کون۔الی کے لفظ میں مخاطب کون اور تَعْمَلُونَ کے لفظ سے کون معلوم ہوتا ہے۔من سے مراد کون ہے اور قبلگ کس کا پتہ دیتا ہے۔پانچواں جواب میں نے مانا لا تكون نہیں کا صیغہ ہے اور نہی بھی بمعنی طلب ترک ہے اور یہاں مخاطب بھی سرور کائنات اور فخر موجودات میں عمل اور مرد بھی وہی ہیں۔مگر میں کہتا ہوں جب لا تكمن نہی کے صیغہ پر نون مشدده تاکید کے لئے آیا اور نون تاکید مشد د ماضی اور حال پر ہرگز آتا نہیں۔جس فعل پر آتا ہے اس کو استقبالی فعل کر دیتا ہے۔پس لا تكونن من الممترين کے معنے یہ ہوں گے:۔اے محمد تو زمانہ ماضی اور حال میں شک کرنے والا نہیں رہا۔اب آگے زمانہ استقبال میں بھی متر و داور متشکلک نہ رہو۔گویا یا نہی دعا ہے جو یقینا قبول ہے یا جس حالت میں تیری جبلت بھی ایسی تعلیم پر تر د والی نہیں تو اب تو میرے مطالب دلائل سے مدلل ہو چکے۔چھٹا جواب۔میں نے بفرض محال مان لیا تر در واقع ہوا تو کیا ایسا تر دو حسب مسلمات