آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات

Page 37 of 520

آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 37

انحضرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات சு باب اول یہاں نہی کو بغرض طلب ترک فعل لیا جاوے۔جس کا یہ مطلب ہے کہ مخاطب فعل شک کو ترک کر دیوے۔مگر ہم کہتے ہیں یہاں شک معدوم ہے اور نہی کا منشاء یہ ہے کہ جیسے شک معدوم ہے آئندہ بھی معدوم رہے۔تیسرا جواب۔سائل ! یہاں آیت فلا تصویر میں ایسا کونسا امر ہے جس کے باعث ہم کو خواہ مخواہ مانا پڑے کہ لاتکون کے مخاطب ہادی اسلام میں صلی اللہ علیہ وسلم۔ہم کہہ سکتے ہیں بدلائل مذکورہ سابقہ حضور علیہ السلام کو اپنی رسالت پر یقین تھا اور قرآن کریم میں اختلاف نہیں۔اس لئے ثابت ہوا لا تكونت کا مخاطب کوئی متردد اور شک کرنے والا آدمی ہے نہ - حضور علیہ السلام چوتھا جواب۔ہم نے مانا اس جملہ لا تكونن کے مخاطب ہمارے پاک ہادی علیہ السلام ہیں مگر عبری اور عربی کا طرز کلام با ہم قریب قریب ہے اور کتب مقدسہ کا غیر محرف حصہ اور قرآن کریم دونوں ایک ہی متکلم کے کلمات ہیں اور دونوں ایک ہی مخرج سے نکلے ہیں اور دونوں کا محاورہ ہے کہ اعلیٰ مورث کو مخاطب کیا جاتا ہے اور مراد اس مورث کی قوم ہوتی ہے۔کسی کو خطاب کرتے ہیں اور کسی دوسرے کو مقصود بالخطاب رکھتے ہیں۔دیکھو پر میا۔ہائے کہ وہ دن بڑا ہے یہاں تک کہ اس کی مانند کوئی نہیں وہ یعقوب کی مصیبت کا وقت ہے۔بر میا ۳۰ باب ۷ تا ۱۰۔اے میرے بندہ یعقوب ہراسان مت ہو۔یرمیا ۴۶ باب (۲۸) خداوند کا بیہوداہ کے ساتھ بھی ایک جھگڑا ہے اور یعقوب کو جیسے اس کی روشیں ہیں ویسی سزا دے گا۔ہوسیع ۱۲ باب ۲۔دلاوری سے لبالب ہوں کہ یعقوب کو اس کا گناہ اور اسرائیل کو اس کی خطا جتادوں میکاس باب ۸۔یعقوب کی رونق کو اسرائیل کی رونق کی مانند پھر بحال کرے گا۔نجوم ۲ باب ۲؎ے گرازین (یا ایک گاؤں کا نام ہے جو افسوس اور ملامت کے قابل نہیں ) تجھ پر افسوس ہے اے