آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات

Page 36 of 520

آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 36

آنحضرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 36 باب اول دوسری صورت اختلاف کی نسبت عرض ہے قرآن کریم تیس برس میں لوگوں کو سنایا گیا اور اس مدت دراز میں حضور علیہ السلام کبھی تن تنہا ہیں اور کبھی ہزاروں ہزار خدام پر حکمران۔کبھی دشمنوں پر حملہ آور اور کبھی احباب کے درمیان۔گاہے گھر میں بیبیوں سے معاشرت کسی وقت اعدا سے مباشرہ۔کبھی عرب کی بے دین اور جاہل قوم سے مکالمہ اور بھی نصاری اور یہود کے علما سے مناظرہ۔ایک وقت فقر ہے اور دوسرے وقت غنی وغیرہ وغیرہ۔ایسی مختلف حالتوں میں کمزور انسان کے خیالات ہرگز ہر گز یکساں نہیں رہ سکتے ان میں تغیر اور اختلاف ضرور آ جاتا ہے مگر قرآن مجید میں کوئی اختلاف نہیں با آنکہ تیس برس اور مختلف حالتوں میں اترا۔اور قرآن مجید نے اپنی صفت میں یہ بھی فرمایا ہے كتبا متشابھا جب میں نے قرآن مجید سے ثابت کر دیا کہ نہ تو حضور علیہ السلام کو کوئی شک وشبہ ہے اور نہ قرآن میں اختلاف۔تو اب سائل کے سوال پر توجہ کرتا ہوں۔کیوں؟ اس لئے کہ مجھ کو کتاب مجید اور فرقان حمید سے جیسے گزرا ثابت ہوا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یقین کے اعلیٰ درجہ پر تھے اور قرآن میں اختلاف نہیں، پھر سائل کہتا ہے کہ قرآن سے معلوم ہوتا کہ بادی اسلام متشکیک تھے۔بڑی دلیل سائل کی سورۃ بقرہ کی آیت ذیل ہے اَلْحَقِّ مِن زَيْتُ فَلَا تَكُونَنَّ مِنَ الْمُمْتَرِينَ (البقرة: ۱۴۸) سو اس کا پہلا جواب یہ ہے لا تكون نفی کا صیغہ ہے نہ نہی کا اور تاکید کے واسطے نون نہ مشد داس کے آخر زیادہ کیا گیا تو لا تكون ہو گیا۔مشد دنون ماضی اور حال پر نہیں آ سکتا۔پس لا تكون استقبال کا صیغہ ہو گا۔اب اس تحقیق پر آیت کے یہ معنے ہوں گے:۔یہ حق ہے تیرے رب کی طرف سے (چونکہ الہی الہام اور دلائل سے یہ حق ثابت ہو گیا تو ) تو کبھی شک والوں میں سے نہ ہوگا۔دوسرا جواب ہم نے مانا لا تكون تھی نہیں نہی کا صیغہ ہے۔مگر ہم کہتے ہیں نہی دو قسم ہوتی ہے۔ایک طلب ترک فعل۔دوم طلب عدم فعل۔سائل کا اعتراض اس صورت میں ہے کہ