آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات

Page 35 of 520

آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 35

انحضرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 35 باب اول یہود اور عیسائی قوم کو صاف صاف سنا دیا کہ میں قتل نہ کیا جاؤں گا اور اللہ کے فضل سے قتل سے بیچ عنا الله رم صلى الله عیسائی صاحبان! اگر نبی عرب اس دھوٹی نبوت میں (اور نبوت کا بھی وہ دعوئی جو كما أرسلت إلى فرمون رسولا فرما کر استثنا ۱۵ باب ۱۸ اور اعمال ۳ باب والا دھوئی ہے۔اور بالکل ظاہر ہے کہ نبی عرب قتل نہیں کئے گئے ) کا ذب ہیں (معاذ اللہ ) تو توریت کتاب مقدس نہیں بلکہ بالکل غلط اور کذب ہے۔کیونکہ کتاب استثنا کے ۱۸ باب ۱۸ میں لکھا ہے جھوٹا نبی مارا جاوے گا۔لاکن توریت شریف اگر الہام الہی سے ہے اور بچی تو ہمارے بادی ملے بچے رسول اور فی نفس الامر استثنا ۸ لباب والے رسول ہیں۔ای واسطے قرآن کریم بار بار حضرت احمد مجتبی محمد مصطفی اور اپنے آپ کو مصدق لم معكم (ال عمران (۸۲) فرماتا ہے۔کیا معنی قرآن کریم اور نبی عرب نے اپنے ظہور اور حفاظت اور قتل سے بیچ کر تو ریت کو سچا کر دکھایا۔اب آگے سنو۔قرآن کریم نے دعوی فرمایا ہے " قرآن میں اختلاف نہیں" وَلَوْ كَانَ مِنْ عِندِ غَيْرِ اللهِ لَوَجَدُوا فِيهِ اخْتِلَافًا كَثِيرًا (النساء : ۸۳) قرآن کریم اگر اللہ تعالیٰ کا کلام نہ ہوتا تو اس میں ضرور اختلاف ہونا اور بہت اختلاف ہوتا۔کیونکہ اختلاف دوطرح کا ہوسکتا ہے۔اول یہ کہ قرآن کریم کے مضامین کو قانون قدرت تکذیب کرے اور قرآنی مطالب الہی انتظام اور فطری قوانین کے مخالف ہوں۔یا ہمارے فطری قو می ان کو برداشت نہ کر سکیں۔دوسری صورت اختلاف کی یہ ہے۔قرآنی مضامین باہم متعارض ہوں۔غور کرو! ان پڑھ عرب کے ان پڑھ عربی نے (اللَّهُمَّ فَرِجُ عَنِى مَا أَسْأَلُكُمْ) یہ قرآن لوگوں کو سنایا۔پھر تیرہ سو برس کی سرتوڑ نیچرل فلاسفی کی تحقیقات نے حضرت قرآن کلام الرحمن کے کسی مضمون کو یقینی طور پر نہ جھٹلایا اور اس تجربہ سے یقین ہو گیا کہ آئندہ بھی کبھی نہ جھٹلائے۔