آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 34
آنحضرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 34 باب اول چوتھی دلیل الم ليْكَ الْكِتَبُ لا رَيْبَ فِيهِ (البقرة :۳۲) یہ سورت جس کا نام الم ہے وہ کتاب ہے (جس کے اُتارنے کا موسیٰ علیہ السلام کی کتاب استثناء کے باب ۱۸ میں وعدہ ہو چکا ) اس میں شک وریب کی جگہ نہیں۔پانچویں دلیل إنا أرسنا اليكُمْ رَسُولًا فَهِدًا عَلَيْكُمْ كَمَا أَرْسَلْنَا إِلَى فِرْعَوْنَ رَسُوةً (المرسل : ١٦ ) بیشک وریب ہم نے (اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ) تمہاری طرف بھیجا بڑا عظمت ! والا رسول نگران تم پر اور یہ رسول اس رسول کی مانند ہے جس کو ہم نے فرعون کے پاس بھیجا۔فَكَيْك تَتَّقُونَ إن كفركم (الوقل: ١٨) منکرو! بتاؤ تو تم کیسے بچو گے عذاب سے اگر تم نے اس رسول کا انکار کیا۔کیا معنی اگر فرعون موسیٰ علیہ السلام کے انکار سے سزایاب ہوا تو تم منکرو! کیونکر بچ سکتے ہو۔سی آیت شریف کتاب استثنا کے ۱۸ باب ۱۸ کی طرف راہنمائی فرماتی ہے۔غرض اسی طرح کی بہت آیات قرآن کریم میں موجود ہیں اور ان آیات سے صاف ظاہر ہوتا ہے حضور علیہ السلام کو اپنی رسالت، نبوت، راستی اور راستبازی پر پورا اور اعلیٰ درجہ کا یقین تھا اور اولڈ ٹیسٹمنٹ اور نیوٹیسٹحٹ کے ماننے والا بعد انصاف ہرگز انکار نہیں کر سکتا کیونکہ استثناء ۱۸ باب ۱۸ میں اور اعمال ۳ باب میں صاف لکھا ہے کہ ایک نبی موسیٰ علیہ السلام کی مانند آنے والا ہے اور توریت میں یہ بھی لکھا ہے کہ جھوٹا بنی جواز راہ کذب وافترا اپنے آپ کو موسیٰ علیہ السلام کی مانند کہے مارا جاوے گا۔حضور (فداه ابى وامى ) نبی عرب نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی مانند رسول ہونے کا دعمومی فرمایا جیسا گزرا۔اور آیت شریف والله يعصمت من الناس (المائدة :۶۸) جس کے معنی ہیں اللہ تعالیٰ تجھے لوگوں سے بچالے گا پڑھ کر پہرہ اور حفاظت کو بھی دور کر دیا۔مدینہ کے