آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات

Page 33 of 520

آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 33

آنحضرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 33 ثبوت باب اول هيْهِ سَبِيلي أَدْعُوا إِلَى اللهِ عَلَى بَصِيرَةٍ أَنَا وَ مَنِ اتَّبَعَنِي وَسَبِّحْنَ اللَّهِ وَمَا أَنَا مِنَ الْمُشتی (یوسف: ۱۰۹) یہی میری راہ ہے بلاتا ہوں اللہ (اللہ قرآنی محاورہ میں ایسی ذات پاک کا نام ہے جو ہر ایک کا ملہ صفت سے موصوف اور ہر ایک برائی سے منزہ ہو۔نورالدین۔) کی طرف پہلے درجہ کی سمجھ اور بوجھ پر میں اور میرے ساتھ والے بھی ایسے ہیں۔اور ہر برائی اور نقص سے پاک ہے اللہ۔اور میں اللہ کے ساتھ کسی امر میں کبھی کسی مخلوق کو ساجھی سمجھنے والا نہیں۔دوسری دلیل حضور علیہ السلام کے متردد نہ ہونے پر قل ريل على بَيْتَ مِن وَكَذَّبْتُم يم ما عليى مَا تَسْتَعْجِلُونَ بِه ان الحُكْمُ الاله يَقْضُ الحَقِّ وَهُوَ خَيْرُ الْقَصِيان (الانعام : ۵۸) بے شک وشبہ میں اعلیٰ درجہ کے کھلے نشان اپنی راستی اور صداقت پر اپنے رب کی طرف سے رکھتا ہوں اور تم اس راستی کی تکذیب کر چکے۔میری تکذیب کے بدلہ جو عذاب تم پر آنے والا ہے تم چاہتے ہو وہ عذاب تم پر جلد آ جاوے سو اس عذاب کا تم پر لانا میرے قبضہ قدرت میں نہیں۔اللہ کے سوا کسی کی حکومت نہیں مگر یا درکھو منکر دکھ پاویں گے۔اللہ ظاہر کرتا رہے گا۔اس حق کو جو میں لایا ہوں اور بے شک وریب وہ ( اللہ تعالیٰ) ہے بہت ہی بڑا جھوٹ اور پیچ میں فیصلہ کرنے والا۔جھوٹے کو ذلیل بچے کو فتح مند کرے گا۔تیسری دلیل حمل الى هدف ربي إلى براي ته دِينَا فِيمَا مِلهُ ابْرَهِيمَ حَيْنًا (الانعام :۱۶۲) بے شک وریب مجھے راہ بتائی میرے رب نے سیدھی راہ۔ٹھیک اور درست دین کی جس کا نام ابراہیمی دین ہے (اسلام ) ایک طرف کا دین ہر طرح کے شرک سے بالکل پاک۔