آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات

Page 483 of 520

آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 483

آنحضرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 483 باب و هم کرنے اور اس کے باوجود انحضرت ﷺ کے صبر اور حوصلے اور برداشت کے ایسے ایسے واقعات ملتے ہیں کہ دنیا میں اس کی کوئی مثال نہیں مل سکتی۔میں چند مثالیں پیش کرتا ہوں کو اس کو آنحضرت مے کی جو دو سخا کے واقعات میں بیان کیا جاتا ہے لیکن یہی واقعات جو ہیں ان میں بے باکی کی حد کا اور پھر آپ ﷺ کے حوصلہ کا بھی اظہار ہوتا ہے۔حضرت جبیر بن مطعم کی یہ روایت ہے۔وہ کہتے ہیں کہ ایک بار وہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے اور آپ کے ساتھ اور لوگ بھی تھے۔آپ چنین سے آ رہے تھے کہ بدوی لوگ آپ سے لپٹ گئے۔وہ آپ سے مانگتے تھے یہاں تک کہ انہوں نے آپ کو بہول کے ایک درخت کی طرف ہٹنے کے لئے مجبور کر دیا جس کے کانوں میں آپ کی چادر اٹک گئی۔رسول اللہ ہی کی تشہیر گئے اور آپ نے فرمایا میری چادر مجھے دے دو۔اگر میرے پاس ان جنگلی درختوں کی تعداد کے برابر اونٹ ہوتے تو میں انہیں تم میں بانٹ دیتا اور پھرتم مجھے بھیل نہ پاتے اور نہ جھوٹا اور نہ بزدل (صحیح بخاری کتاب فرض الخمس باب ما كان النبي يعطى المؤلفة قلوبهم و غير هم۔۔۔۔۔۔۔3148) پھر ایک روایت حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ہے۔بیان کرتے ہیں کہ میں نبی کریم کی معیت میں تھا اور آپ نے ایک موٹے کنارے والی چادر زیب تن کی ہوئی تھی۔ایک بدو نے اس چادر کو اتنے زور سے کھینچا کہ اس کے کناروں کے نشان آپ کی گردن پر پڑ گئے۔پھر اس نے کہا اے محمد ! ( ﷺ) اللہ کے اس مال میں سے جو اس نے آپ کو عنایت فرمایا ہے فرمایا میرے ان دو اونٹوں پر لاد دیں کیونکہ آپ مجھے نہ تو اپنے مال میں سے اور نہ ہی اپنے والد کے مال میں سے دیں گے۔پہلے تو نبی کریم سے خاموش رہے پھر فرمایا۔الْمَالُ مَالُ اللَّهِ وَ آنَا عبده که مال تو اللہ ہی کا ہے اور میں اس کا بندہ ہوں۔پھر آپ نے فرمایا۔مجھے جو تکلیف پہنچائی ہے اس کا بدلہ تم سے لیا جائے گا۔اس بدو نے کہا نہیں۔آپ ﷺ نے پوچھا تم سے بدلہ کیوں نہیں لیا جائے گا؟ اس بدو نے کہا اس لئے کہ آپ برائی کا بدلہ برائی سے نہیں لیتے۔اس پر نبی کریم ﷺ ہنس پڑے۔پھر آپ ﷺ نے ارشاد فر مایا کہ اس کے ایک اونٹ پر ہو اور دوسرے