آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات

Page 482 of 520

آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 482

آنحضرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 482 باب دہم جرم نہیں کیا تھا۔کیونکہ اگر واقعہ میں انہوں نے کوئی جرم کیا ہوتا تو وہ اسے کیوں پیش نہ کرتے۔ان کا یہ قول کہ یہ حضرت عیسی علیہ السلام کی ہتک کرتے ہیں بتا تا ہے کہ وہ صحابہ کا کوئی حقیقی جرم پکڑ نہیں سکتے۔نجاشی نے یہ سن کر صحابہ کو بلوایا اور پوچھا کہ آپ لوگ حضرت عیسی علیہ السلام کے متعلق کیا عقیدہ رکھتے ہیں؟ انہوں نے قرآن کریم کی بعض آیات پڑھ کر سنائیں جن میں ذکر آتا ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام خدا تعالیٰ کے برگزیدہ رسول تھے۔انہیں خدا تعالیٰ کی طرف سے روح ملی تھی اور ان کے ہاتھ پر منجزات ظاہر ہوتے تھے۔جب وہ آیتیں نجاشی کے سامنے پڑھی گئیں تو اس کی آنکھوں میں آنسو آگئے اور وہ کہنے لگا اب میں سمجھ گیا کہ تم پر ظلم کیا جاتا ہے۔پھر اس نے کہا کہ میں اس خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ حضرت عیسی کا جو درجہ تم نے بیان کیا ہے ، وہی میں سمجھتا ہوں اس سے ایک سکے کے برابر بھی زیادہ نہیں سمجھتا۔میں تمہیں قریش مکہ کے حوالے نہیں کر سکتا تم آزادی سے میرے ملک میں رہو کوئی شخص تم پر ظلم نہیں کر سکتا۔بہر حال مکہ والوں نے یہی طریق اختیار کیا تھا کہ کہا صحابہ حضرت عیسی علیہ السلام کی جنگ کرتے ہیں۔" ( خطبات محمو د جلد ۶ صفحه ۵۳۷ تا ۵۳۸) ☆ سختی کرنے کے اعتراض کا جواب حضرت خلیفہ المسح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز اس اعتراض کے جواب میں فرماتے ہیں : آج یہ لوگ آزادی اظہار کا شور مچاتے ہیں۔شور مچاتے ہیں کہ اسلام میں تو آزادی رائے اور بولنے کا اختیار ہی نہیں ہے اور مثالیں آج کل کی مسلمان دنیا کی دیتے ہیں کہ مسلمان ممالک میں وہاں کے لوگوں کو شہریوں کو آزادی نہیں ملتی۔اگر نہیں ملتی تو ان ملکوں کی بدقسمتی ہے کہ اسلامی تعلیم پر عمل نہیں کر رہے۔اسلامی تعلیم کا تو اس سے کوئی تعلق نہیں۔ہمیں تو الله تاریخ میں لوگوں کے بے دھڑک آنحضرت مہ سے مخاطب ہونے بلکہ ادب واحترام کو پامال