آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 481
آنحضرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 481 باب و هم غلامی میں آزادی سے زیادہ آسائش پاتے تھے اور اسلامی احکام سے فائدہ اٹھا کر وہ اپنی تنگ الله حالت کو بدلنا نہیں چاہتے تھے۔پس رسول کریم میں نے غلامی کے قائم کرنے والے نہیں تھے بلکہ غلامی کے مٹانے والے تھے۔اور آپ سے بڑھ کر غلامی کے مٹانے میں اور کسی نے حصہ نہیں لیا۔بلکہ آپ کے کام سے ہزارواں حصہ کم بھی کسی نے کام نہیں کیا۔22 ☆ انوارالعلوم جلده اصفحه ۲ ۲۷ تا صفحه ۲۷۹) حضرت عیسی علیہ السلام کی ہتک کا الزام کفار مکہ اور عیسائیوں کی طرف سے آنحضور پر حضرت عیسی علیہ السلام کی بینک کا التزام لگایا جاتا رہا ہے۔اس الزام اور اس کا رڈ کرتے ہوئے حضرت مصلح موعود بیان فرماتے ہیں: یہ کہا جاتا ہے کہ رسول کریم میں در حقیقت حضرت عیسی کے منکر تھے اور آپ ان کی : الله ہتک کرتے تھے۔اسی بناء پر رسول کریم ﷺ کا انہوں نے ایک ایسا نام رکھا ہوا تھا جس کا لیا بھی ہماری حید برداشت سے باہر ہے۔اور جس کے لفظی معنی حضرت عیسی علیہ السلام کے مخالف کے ہیں۔حالانکہ یہ ساری باتیں بالکل جھوٹ ہیں۔جن لوگوں نے اسلامی تاریخ کو پڑھا ہے وہ جانتے ہیں کہ جس وقت صحابہ کفار کے مظالم سے تنگ آکر حبشہ کی طرف ہجرت کر کے چلے گئے اور انہوں نے نجاشی شاہ حبش کی پناہ لی تو اس وقت مکہ کے لوگوں نے عمرو بن العاص اور ابن ربیعہ پر مشتمل ایک وفد حبشہ کو بھیجا اور نجاشی کو اس کے ذریعہ کہلا بھیجا کہ ہمارے آدمیوں کو واپس کر دیا جائے کیونکہ اس طرح ہماری ہتک ہوتی ہے۔جب یہ لوگ وہاں گئے اور نجاشی کے سامنے معاملہ پیش ہوا تو اس نے کہا کہ جب تک ان لوگوں کا کوئی جرم ثابت نہیں ہوگا میں انہیں واپس کرنے کو تیار نہیں۔میرا ملک آزاد ہے جو چاہے اس میں رہے۔ہاں اگر ان کا مجرم ہونا ثابت کر دو تو انہیں تمہارے ساتھ بھیجا جا سکتا ہے۔انہوں نے رسول کریم ﷺ کے صحابہ کا جرم یہی بیان کیا کہ یہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی بہتک کرتے ہیں۔ان کا یہ کہنا ہی بتا رہا تھا کہ صحابہ نے ان کا کوئی