آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات

Page 480 of 520

آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 480

آنحضرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 480 باب و هم جو جنگ کہ دشمن اسلام صرف اس لئے کریں کہ مسلمانوں سے تلوار کے زور سے اسلام چھڑوائیں۔حالانکہ اس تعلیم سے پہلے تمام ممالک میں سیاسی جنگوں کے قیدیوں کو بھی غلام بنایا جاتا تھا۔پھر یہ شرط لگا دی کہ ایسی مذہبی جنگ میں بھی جو قید ہو اس کے ساتھ وہی سلوک کرو جو اپنے گھر کے لوگوں سے کرتے ہو۔جو کھاتے ہو وہ کھلا ؤ، جو پیتے ہو وہ پلا کو، جو پہنتے ہو وہ پہناؤ۔پھر یہ شرط کی کہ باوجود اس خاطر کے ہر اک غلام کو یہ حق دیا جاتا ہے کہ جب وہ چاہے آزاد ہو جائے۔ہاں چونکہ وہ ایک ظالمانہ جنگ میں شریک ہوا ہے اس لئے اس کا فرض ہے کہ وہ اپنی لیاقت کے مطابق خرچ جنگ ادا کر دے یا اس کے رشتہ دار کر دیں۔پھر یہ شرط لگا دی کہ اگر غلام کے رشتہ دار یا اہل ملک اس کو نہ چھڑوا سکیں اور اس کے پاس روپیہ نہ ہو تو ہر غلام کا حق ہے کہ وہ کہہ دے کہ میں آزاد ہونا چاہتا ہوں اور اس کا آقا مجبور ہو گا کہ اس کی طاقت کے مطابق خرچ جنگ اس پر ڈال دے اور اسے نیم آزاد کر دے کہ وہ اپنی کمائی سے قسط وار رو پید ادا کر کے اپنے آپ کو آزاد کرائے۔اور جس وقت یہ قسط مقرر ہو اسی وقت سے غلام کو عملاً آزادی حاصل ہو جائے۔پھر یہ حکم دیا کہ جو غلام کو مارے اس کی سزا یہ ہے کہ اس کا غلام آزاد سمجھا جائے۔پھر کئی گناہوں کا کفارہ غلاموں کا آزاد کرنا مقرر کیا تا کہ جو کوئی غلام رہ جائے وہ اس طرح آزاد ہو جائے۔اور پھر اسی پر بس نہیں کی۔آخر یہ بھی حکم دے دیا کہ حکومت کے مال میں غلاموں کا بھی حق ہے۔حکومت کو چاہئے کہ ایک رقم ایسی مقرر کرے جس سے وہ غلام آزاد کراتی رہے۔اب سوچو کہ غلامی تو ہر ملک میں رسول کریم ﷺ سے پہلے ہی پائی جاتی تھی۔آپ نے تو جاری نہیں کی۔آپ نے جو کچھ کیا وہ یہ کیا کہ اس کا دائرہ محدود کر دیا اور پھر ایسے سامان پیدا کر دئے کہ عملاً غلام آزادی ہو جائیں۔مگر با وجود اس کے اگر اسلام کے ابتدائی زمانہ میں غلام باقی رہ گئے تھے تو اس کی صرف اور صرف یہ وجہ تھی کہ اسلامی احکام کے ماتحت ان سے آقا ویسا ہی سلوک کرنے پر مجبور تھا جیسے کہ وہ اپنے نفس یا اپنے عزیزوں سے وہ کرتا تھا۔اور غریب غلام جانتے تھے کہ ایک مسلمان کا غلام رہ کر اگر ان پر سو دو سویا ہزار دو ہزار روپیہ خرچ ہوتا ہے تو آزا درہ کر وہ سات آٹھ روپیہ سے زیادہ نہ کما سکیں گے اور اس میں انہیں اپنا کتبہ پالنا پڑے گا۔پس بہت سے تھے جو اس