آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات

Page 479 of 520

آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 479

آنحضرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات صى الله 479 باب و هم اسی طرح جب رسول کریم وہ طائف گئے اور وہاں سے زخمی ہو کر واپس آئے تو ایک غلام نے ہی آپ سے ہمدردی کی اور آپ کی حالت کو دیکھ کر روتا رہا۔بات یہ ہے کہ سب غلام جانتے تھے کہ آپ ان کو آزاد کرانے کے لئے آئے ہیں نہ کہ ان کی غلامی کی زنجیروں کو اور مضبوط کرنے کے لئے۔اس لئے وہ سب آپ سے محبت رکھتے تھے اور ان کا شروع زمانہ میں ایمان لانا اور سخت تکالیف اٹھانا اور آخر تک ساتھ دینا اس امر کا ثبوت ہے کہ مکہ کے تمام غلام اور تمام لونڈیاں اس امر کو سمجھتے تھے کہ محمد رسول اللہ کی تعلیم غلاموں کو آزاد کرانے والی ہے۔تبھی ان میں سے سب کے سب جو سمجھ دار تھے آپ پر ایمان لائے۔یا اگر اس کی جرات نہ کر سکے تو آپ کی مدد کرتے رہے اور آپ سے اظہار ہمدردی کرتے رہے۔اور کیا یہ عجیب بات نہیں کہ جن لوگوں کا معاملہ ہے وہ تو رسول کریم ﷺ کو غلاموں کا آزاد کرانے والا قرار دیتے ہیں اور جو لوگ نہ اس وقت تھے اور نہ ان کو غلامی سے کچھ تعلق ہے اور نہ انہوں نے غلاموں کے آزاد کرانے میں کبھی بھی کوئی حصہ لیا ہے وہ غلامی کے متعلق آپ پر اعتراض کرتے ہیں۔اس عملی کام کے علاوہ اس امر پر بھی غور کرنا چاہئے کہ رسول کریم ﷺ کے زمانہ سے پہلے غلامی کا رواج تھا۔اور کوئی ملک غلامی سے پاک نہ تھا۔ہندوستان میں مجھے نہیں معلوم دوسری قسم کی غلامی تھی یا نہ تھی مگرا چھوت اقوام سب کی سب غلام ہی ہیں۔وہ اعلیٰ پیشوں سے محروم ہیں اور ان کا فرض ہی پر ہمنوں کی خدمت مقرر کیا گیا ہے۔فرق صرف یہ ہے کہ دوسرے لوگوں میں غلاموں کو کھانا ، کپڑا دینے کا رواج تھا۔یہاں جن لوگوں نے غلامی کا رواج دیا تھا انہوں نے کھانے کپڑے سے بھی دستبرداری دے دی تھی۔اور غلام کا فرض مقرر کیا تھا کہ وہ اپنے لئے بھی کمائے اور برہمنوں کی بھی خدمت کرے۔ایران اور روم بھی غلامی میں ایک دوسرے سے ہے بڑھے ہوئے تھے۔ان ممالک کے لوگوں نے غلامی کے دور کرنے کا کیا علاج مقرر کیا تھا ، کچھ بھی نہیں۔یہ صرف محمد رسول اللہ اللہ کا لایا ہوا دین تھا جس نے یہ قانون بنایا کہ ہر آزا د کو قید کالایا کرنے والا قتل کا مجرم سمجھا جائے گا۔پھر یہ شرط لگائی کہ غلام بنا نا صرف اس جنگ میں جائز ہے