آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 478
آنحضرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات کہ آپ پر ایمان لاتے۔478 باب دہم غیر مسلم غلاموں کی ہمد ردی علاوہ ان غلاموں اور لونڈیوں کے جو آپ پر ایمان لائے مکہ کے اکثر غلام اور لونڈیاں آپ سے ہمدردی رکھتے تھے۔چنانچہ حضرت حمزہ کے ایمان لانے کی موجب بھی ان کی ایک غیر مسلمہ لونڈی ہی تھی۔جس کی تفصیل یہ ہے کہ ایک دفعہ ابوجہل نے رسول کریم ﷺ کو گالیاں دیں اور مارنے کے لئے اٹھا اور آپ کو بہت تکلیف دی۔حضرت حمزہ جو رسول کریم کے چا تھے اور ابھی ایمان نہ لائے تھے ان کی ایک لونڈی دیکھ رہی تھی۔اسے بہت صدمہ ہوا اور سارا دن گوھتی رہی۔جب حضرت حمزہ گھر آئے تو کس بات کا بہانہ ڈھونڈ کر اس نے طعنہ دیا کہ بڑے بہادر بنے پھرتے ہو۔دیکھتے نہیں تمہارے بھیجے کو ابو جہل نے کس طرح دکھ دیا ہے۔حضرت حمزہ شکار کے شائق تھے اور ادھر اُدھر پھرنے میں وقت گزارتے تھے۔اور ان حالات سے زیادہ واقف نہ تھے لونڈی سے یہ بات سن کر ان کا دل اندر ہی اندر گھائل ہو گیا۔واقعہ کی تفصیل سنی اور غیرت سے بے تاب ہو کر باہر نکل آئے۔مجلس کفار میں آئے۔ہاتھ میں تیر کمان تھا۔لونڈی نے کچھ اس طرح واقعہ بیان کیا تھا کہ درد اور غصہ دونوں جذبات بے طرح جوش میں تھے اور بات کرنے کی طاقت نہ تھی۔مجلس میں آکر ایک دیوار سے ٹیک لگا کر کھڑے ہو گئے اور کمان پر سہارا لگالیا۔بار بار بات کرنا چاہتے تھے مگر شدت غم سے منہ سے بات نہ نکلی تھی۔اسی طرح کھڑے تھے کہ ابو جہل کی نگاہ پڑ گئی اور وہ بولا خیر ہے حمزہ تم تو اس طرح کھڑے ہو جس طرح انسان لڑائی پر آمادہ ہوتا ہے۔اس کا یہ کہنا تھا کہ یہ ٹوٹ پڑے، اس کے منہ پر تھپڑ مارا اور کہا کہ ظالم تیرے ظلموں کی کوئی انتہا بھی ہے۔تو نے محمد (ﷺ) کو حد سے بڑھ کر ستایا ہے۔لے میں بھی مسلمان ہوتا ہوں اگر طاقت ہے تو آمجھ سے لڑ لے۔ابو جہل بھی مکہ کا سردار تھا اٹھ کر چمٹ گیا۔لیکن اردگرد کے لوگوں نے دیکھا کہ یہ جھگڑا مکہ کو بھسم کر دے گا، صلح کرا دی۔اور اس دن سے حضرت حمزہ کو اسلام کی طرف توجہ ہوگئی۔ایک دو دن کے غور کے بعد فیصلہ کر لیا کہ اسلام سچا ہے اور اپنے ایمان کا اعلان کر دیا۔